مٹیاری رپورٹ عامر علی انڑ
ہالا کے گاؤں سلطان سہتو کی رہائشی شادی شدہ خاتون یاسمین سہتو نے مبینہ طور پر منشیات فروش وسیم سہتو کی جانب سے ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور دیگر مبینہ زیادتیوں کے خلاف ہالا پریس کلب میں احتجاج کیا۔صحافیوں کے سامنے فریاد کرتے ہوئے مسمات یاسمین زوجہ جاوید سہتو نے الزام عائد کیا کہ گاؤں گل سہتو کا رہائشی وسیم سہتو مبینہ طور پر اس کا موبائل ہیک کرکے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نازیبا جعلی ویڈیوز اور تصاویر تیار کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی دھمکیاں دے کر اسے بلیک میل کر رہا ہے۔خاتون کے مطابق چند روز قبل مبینہ طور پر وسیم سہتو اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ اس کے رشتہ داروں کے گھر میں زبردستی داخل ہوا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ بھٹ شاہ تھانے میں درج کرایا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔یاسمین سہتو نے مزید الزام عائد کیا کہ وسیم سہتو مبینہ طور پر منشیات کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کے خلاف مختلف تھانوں میں منشیات ایکٹ کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں، تاہم پولیس مبینہ طور پر کارروائی نہیں کر رہی۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص اسے اور گاؤں کی دیگر لڑکیوں کو مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، سوشل میڈیا کے ذریعے بلیک میل کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی نازیبا ویڈیوز بنا کر پھیلانے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جبکہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
متاثرہ خاتون نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی مٹیاری سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ الزامات کی شفاف تحقیقات کروا کر ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اسے تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔ تاہم خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

