واشنگٹن: ایران نے جنگوں کے اکھاڑے اور ہتھیار ہی بدل دئیے۔ عسکری حکمت عملی تبدیل مستقبل کی جنگ صرف ڈرون، میزائل، ائیر ڈیفنس اور زمینی فوج سے لڑی جائےگی۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 13, 2026
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خطے میں دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور ڈرون وارفیئر کے چواستوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے اور تاریخی اقدام کے تحت پہلے کثیر جہتی اور کثیر القومی ’ٹاسک فورس فالکن اسٹرائک‘ (Task Force Falcon Strike) کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ قدم جدید جنگی تقاضوں، خاص طور پر سستے اور مؤثر ”کامی کازی“ خودکش یا ون وے اٹیک ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نئی ٹاسک فورس ’اسکارپین اسٹرائک‘ (Scorpion Strike) پراجیکٹ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت گزشتہ دسمبر میں پہلی بار بحری جنگی جہاز سے حملہ آور ڈرون لانچ کرنے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا گیا تھا۔ سینٹکام کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد مہنگے کروز میزائلوں کی جگہ کم خرچ اور عین ہدف پر مار کرنے والے ڈرون سسٹمز (LUCAS) کا استعمال بڑھانا ہے، جو ایران کی طرف سے استعمال کیے جانے والے شاہد-136 طرز کے ڈرونز کا توڑ ثابت ہوں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کی جنگ اور بحیرہ احمر کے تنازعات نے دنیا بھر کی افواج کو یہ سکھایا ہے کہ جنگوں کا مستقبل اب بغیر پائلٹ کے اڑنے والی ان مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔اس نئے کثیر القومی اقدام میں امریکہ کے علاوہ خطے کے اتحادی بھی شامل ہیں، جو ابراہم اکاڈز کے تناظر میں سکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی فوج اب ڈرونز کو عسکری آپریشنز کا بنیادی حصہ بناتے ہوئے خشکی اور سمندر دونوں محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے رہی ہے۔

