کیلے فورنیا: مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’انسٹاگرام‘ نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد اپنے روایتی برانڈ لوگو میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایک نئے ورڈ مارک (Wordmark) ٹیکسٹ لوگو کی نقاب کشائی کر دی ہے۔ یہ وہی نام ہے جو ایپ کے اوپری حصے میں ’انسٹاگرام‘ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے خود اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے نئے ورڈ مارک کو "شارپ اور جدید” قرار دیا، تاہم یہ واضح کیا کہ اس میں ایپ کے اصل لوگو کی سادگی اور کاریگری کو برقرار رکھا گیا ہے۔ پرانا کرسیو اسکرپٹ لوگو 2013 میں ڈیزائن کیا گیا تھا، اور کمپنی کے مطابق ایک طویل عرصے کے بعد اس میں تبدیلی کا یہی بہترین وقت تھا۔
اگرچہ کمپنی نے اسے جدید رنگ دینے کی کوشش کی ہے، لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اس نئے ڈیزائن پر بھرپور تنقید اور مزاحیہ تبصرے شروع کر دیے ہیں۔ بہت سے صارفین نے نشاندہی کی ہے کہ نئے فونٹ میں موجود انگریزی کا حرف ‘r’ ہو بہو ‘z’ جیسا دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے ‘انسٹاگرام’ کے بجائے ‘انسٹاگزم’ پڑھ رہے ہیں۔ صارفین کی جانب سے اس نئے لوگو کو ‘انسٹاگوان’ اور ‘انسٹاگوم’ جیسے مزاحیہ نام بھی دیے جا رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر اس کی وجہ سے میمز کا طوفان امڈ آیا ہے۔
تاہم، اس تنقید کے باوجود ایک طبقے نے نئے ورڈ مارک کو سراہا بھی ہے۔ واضح رہے کہ انسٹاگرام نے اپنے اصل رنگین گریڈینٹ آئیکن (لوگو) میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، اور وہ پہلے کی طرح ہی برقرار رہے گا۔ یاد رہے کہ انسٹاگرام نے اس سے قبل 2016 میں اپنے براؤن کیمرہ آئیکن کو تبدیل کر کے موجودہ رنگین ڈیزائن اپنایا تھا، اور اس بار تبدیلی صرف تحریری نام (ورڈ مارک) میں کی گئی ہے۔
ایک دہائی بعد انسٹاگرام کا لوگو تبدیل: تبدیل شدہ فونٹ پر میمز کی دھوم

