برسلز: موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط (1.4 ڈگری) کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ یعنی تقریباً 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے۔
اس تیزی سے بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن گیا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے قطب شمالی کے قریب ہونے کی وجہ سے یورپ اس خطے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ خطے میں برف کے مسلسل پگھلاؤ اور برفانی رقبے میں کمی کی وجہ سے سورج کی شعاعوں کو واپس فضا میں منعکس کرنے کی صلاحیت (Albedo effect) کم ہو گئی ہے، جس سے زمین زیادہ حرارت جذب کر رہی ہے۔ اسی طرح فضا میں گردش کرنے والے طوفانی اور موسمی دباؤ کے نظام میں تبدیلی کی وجہ سے شدید گرمی کی لہریں (Heatwaves) زیادہ تواتر اور شدت کے ساتھ آ رہی ہیں۔
برطانوی محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں کے لیے شدید ترین گرمی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم اینڈریو برنہم نے بدھ کو حکومت کی ہنگامی کمیٹی ’کوبرا‘ کا اجلاس طلب کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی اور مشرقی برطانیہ اور مڈلینڈز کے کچھ حصوں میں گرمی سب سے زیادہ پریشان کر سکتی ہے۔ برطانیہ کے کئی حصوں میں پہلے سے ہی ’امبر ہیٹ-ہیلتھ الرٹ‘ نافذ ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے لوگوں، خاص طور پر بزرگوں اور دیگر حساس افراد سے گرمی کے دوران اضافی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
2026 میں برطانیہ میں آنے والی پانچویں ہیٹ ویو ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کی گرمی اب تک ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ برطانیہ اور ویلز میں رواں سال اب تک جنگل میں آگ لگنے کے 966 واقعات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف اگست کے ابتدائی 10 دنوں میں ہی 185 واقعات پیش آئے۔
حکومت نے فائر فائٹنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے 9.7 کروڑ پاؤنڈ کی اضافی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے لاکھوں لوگ پانی کی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔
یورپ میں درجہ حرارت 2.5 ڈگری سنٹی گریڈ بڑھ گیا، برطانیہ میں ہیٹ ویو الرٹ، پانی استعمال پر پابندی

