کراچی :کراچی کی مقامی عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کی 3 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تینوں مقدمات میں بری کردیا ہے جب کہ پراسیکیوشن ملزمہ پنکی کے خلاف شوہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔
جمعرات کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف گزری تھانے میں درج منشیات کے 3 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ملزمہ کی جانب سے انعم کوثر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں، ملزم علی اور فہمیدہ کو 2024 میں عدالت نے بری کیا تھا، انمول پنکی کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں شامل کیا گیا تھا تاہم جب شریک ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں تو ملزمہ کے خلاف مقدمے میں سزا کا کوئی امکان نہیں رہا۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد انمول عرف پنکی کی مزید 2 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرلیں، جس کے بعد ملزمہ کو ان مقدمات سے بھی بری کردیا گیا۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن ملزمہ انمول پنکی کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمہ کسی اور مقدمے میں نامزد یا مطلوب نہیں تو اسے رہا کردیا جائے۔ آج ہی فاضل جج نے انمول عرف پنکی کو گزری تھانے میں درج 3 مقدمات میں بری کیا ہے، گزری تھانے میں 2020، 2021 اور 2022 کے مقدمات میں بری کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کو 12 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گارڈن سے پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے تقریباً 1.5 کلو کوکین، 9 ایم ایم پستول اور کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد ہوا تھا۔
کراچی پولیس کے مطابق گرفتاری کے بعد انمول پنکی کے خلاف پہلے سے درج متعدد مقدمات میں بھی اسے گرفتار ظاہر کیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 16 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ منشیات فروشی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں مقدمات درج ہیں جبکہ منشیات کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔
مختلف اوقات میں سامنے آنے والی ان تعدادوں میں فرق کی وجہ مقدمات کے اندراج، گرفتاری اور چالان کی مختلف مراحل کی تفصیلات ہو سکتی ہیں۔
پولیس اور تفتیشی حکام کی جانب سے انمول عرف پنکی پر منشیات کی خرید و فروخت اور مبینہ طور پر منظم منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس کے خلاف درج مقدمات میں منشیات ایکٹ، غیر قانونی اسلحہ، اقدام قتل اور قتل سمیت مختلف دفعات شامل رہی ہیں۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انمول پنکی کا مبینہ نیٹ ورک کراچی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں متعدد سہولت کار شامل تھے۔
حکام کے مطابق تفتیش کے دوران اس کے رابطوں، بینک لین دین اور مبینہ منشیات سپلائی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ ان دعوؤں کا حتمی تعین عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں سے ہوگا۔
انمول پنکی کے خلاف زیرسماعت مقدمات میں گارڈن تھانے کا منشیات کیس خاص طور پر اہم ہے۔ جون 2026 میں اس مقدمے میں مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت کی درخواستوں پر بھی کارروائی ہوئی جب کہ پولیس نے بعض ملزمان کو پنکی کے لیے رقوم کی وصولی اور منشیات نیٹ ورک میں معاونت کا الزام عائد کیا۔
اس کے علاوہ بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ 5 اگست 2026 کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے پولیس کا حتمی چالان منظور کرلیا۔
پولیس نے چالان میں قتل کی دفعہ تبدیل کرکے اسے قتل بالسبب قرار دیا۔ پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی اور اس کے پاس سے ایسی ڈبیا برآمد ہوئی جس پر انمول پنکی کا نام درج تھا، تاہم کراچی یونیورسٹی کی کیمیکل رپورٹ میں موت نشے کے باعث قرار دی گئی، جس کے بعد قتل کی دفعہ ختم کردی گئی۔
انمول پنکی کے خلاف 6 مقدمات میں چالان اور گواہان کے بیانات کی نقول جیل میں فراہم کیے جانے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 25 جولائی 2026 کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی گرفتاری کے بعد بھی متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائی مختلف مراحل پر جاری ہے۔
یوں ایک مقدمے میں بریت کے باوجود انمول عرف پنکی کو دیگر زیرسماعت مقدمات کا سامنا ہے، جن میں منشیات سے متعلق مقدمات کے علاوہ قتل کا مقدمہ بھی شامل رہا ہے جب کہ تازہ ترین عدالتی پیش رفت کے مطابق قتل کے مقدمے میں الزام کی نوعیت تبدیل کرکے قتل بالسبب کردی گئی ہے۔

