روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک نے روسی تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کی کوشش کی تو روس کو جوابی کارروائی کرنے کا حق ہے اور یہ کارروائی ان آبی علاقوں تک محدود نہیں ہوگی جہاں روسی جہازوں کو روکا گیا ہے۔
ولادیمیر پوتن نے کہاکہ "اگر ان منصوبوں کو عمل میں لایا جاتا ہے تو ہمیں اسی طرح جواب دینا ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ روس کا ردعمل ضروری نہیں کہ ان علاقوں تک محدود ہو جہاں روسی جہازوں کو ضبط کیا گیا ہے، بلکہ یہ "جہاں بھی ہمیں ضروری اور مناسب لگےوہاں کیا جا سکتا ہے۔‘‘ اس میں روس کے بحر الکاہل کے بیڑے کی ذمہ داری والے علاقے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ولادیمیرپوتن نے یہ بھی کہا کہ روس اپنے پڑوسی اور دوست ممالک کے ساتھ باہمی مفادات کے احترام کی بنیاد پر باہمی طور پر قابل قبول معاہدے کی تلاش جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
روسی نیوز ایجنسی تاس کے مطابق، روسی ملاحوں سے بات چیت کے دوران ولادیمیر پوتن نے کہا کہ انہوں نے وزارت دفاع کو اس معاملے پر کام کرنے کی ہدایت پہلے ہی دے دی ہے اور بحر الکاہل کے بیڑے کی کمانڈ کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں روس کے ممکنہ ردعمل کے تعلق سے تجویز کی امید ہے۔
پوتن نے کچھ مغربی ممالک پر بین الاقوامی سمندری قانون کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ روسی اقتصادی مفادات سے جڑے شہری جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جا رہی ہے اور روسی جہازوں کو ضبط کر کے انہیں فروخت کرنے کے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایسی کارروائیوں کو "سمندری ڈکیتی اور لوٹ مار” کے مترادف بتایا۔

