تحریر: محمدسلیم اختر
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
قرآن کریم میں ریاست اور وطن مل جانے کے بعد جو کام کرنے چاہئیں
ان کی تفصیل کچھ یوں بیان کی گئی ہے:
"یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں، لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں اور برائی سے روکیں۔”
( سورة الحج :41)
لیکن بدقسمتی سے آج موسیقی، میوزیکل کنسرٹ، ڈھول باجے،ناچ گانے، ون وہیلنگ ،بےپردگی اور دیگر اللہ کی کھلی نافرمانیوں کو وطن عزیز پاکستان میں جشنِ آزادی اور وطن ملنے کی خوشی تصور کرلیا گیا ہے لہذا ان خرافات سے بچیں اور صرف 14اگست کے دن ہی نہیں بلکہ پورے سال آزادی کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
کسی موقع پر خوشی ناچ گانا، ہلہ گلہ ڈھول ڈھمکہ ، اچھلنا کودنا،اور بالخصوص ایسے کام جس سے دوسروں تکلیف ہو خوشی منانے کا طریقہ بلکہ گناہ اور جہالت کا کام ہے ۔
سب پہلے دیکھنا یہ ہے کہ جن مقاصد کو لیکر پاکستان بنایا گیا وہ حاصل ہو گیا ۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے نے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بے بہا جانوں کی قربانی دینی پڑی ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں کو تار تار گیا، ہمارے بزرگوں نے اپنے جان سے پیارے رشتوں کو قربان کیا گیا اور اپنی جائے پیدائش کو چھوڑنا پڑا اور سب سے بڑھ کر اس ملک کو کلمے کی بنیاد پر بنایا گیا ۔ اب کیا پاکستان میں کلمے کا نظام قائم ہو چکا اگر ریاستی سطح پر نہیں تو کیا معاشرے نے اپنے طور یا افراد نے اپنے طور پر کلمے کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اور یقیناً ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کس چیز کی خوشی منا رہے ہیں ۔ مقاصد کی ناکامی پر خوشی نہیں شرمندہ ہونا چاہیے ناکہ خوش ۔
اور اگر مقاصد حاصل ہو چکے تو پھر بھی خوشی منانے کا وہ طریقہ ہونا چاہیے جو اخلاقی قدروں کے اندر رہ منایا جائے وہ طریقہ اختیار کریں جن کی طرف شریعت نے اشارہ کیا ہے ۔
اور اس لیے درج ذیل امور سر انجام دیں:
1۔نماز پڑھیں!
2۔زکوۃ ادا کریں!
3۔غریبوں کی مالی مدد کریں!
4۔ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم اور برے کاموں سے روکیں۔۔۔!
5۔بارگاہِ خداوندی میں توبہ و استغفار کریں!
6۔اور جن مقاصد کیلئے یہ ملک بنا تھا انہیں حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں!


