لندن: دنیا بھر میں فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے لاکھوں افراد آج آسمان پر ایک انتہائی نایاب اور شاندار منظر یعنی مکمل سورج گرہن (Total Solar Eclipse) کا مشاہدہ کریں گے۔
اس دلکش فلکیاتی نظارے کے دوران چاند سورج کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گا، جس کے نتیجے میں چند لمحوں کے لیے دن کے وقت اندھیرا چھا جائے گا اور سورج کا بیرونی چمکدار حصہ، جسے ’کورونا‘ (Corona) کہا جاتا ہے، صاف طور پر نمایاں نظر آئے گا۔
اس مکمل سورج گرہن کا بنیادی اور واضح نظارہ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین، شمالی بحرِ اوقیانوس اور شمالی روس کے مختلف علاقوں میں کیا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق یہ سورج گرہن برصغیر اور عرب ممالک میں نہیں دیکھا جا سکے گا، تاہم شمالی افریقا بالخصوص مغربی افریقی خطے کے بعض حصوں میں غیرمعمولی حد تک جزوی سورج گرہن کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
الجزائر: بعض مقامات پر سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا، جو اس پورے خطے کا سب سے نمایاں اور حیرت انگیز منظر ہوگا۔
مراکش: دارالحکومت رباط میں سورج کا تقریباً 88 فیصد حصہ گرہن کی زد میں آئے گا۔
تیونس اور موریطانیہ: ان ممالک میں سورج کے ڈھکنے کی شرح بالترتیب تقریباً 50 فیصد اور 46 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ماہرین فلکیات نے عوام اور شائقین کو خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو کبھی بھی ننگی آنکھوں سے براہِ راست نہ دیکھیں کیونکہ یہ ریٹینا کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سورج گرہن کا محفوظ طریقے سے نظارہ کرنے کے لیے صرف اور صرف منظور شدہ ’سولر ایکلیپس چشموں‘ (Solar Eclipse Glasses) یا خصوصی محفوظ مشاہداتی آلات کا ہی استعمال کیا جائے۔

