نئی دہلی: آسام میں حتمی این آر سی کے نفاذ اور اس میں شامل شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق جمعیۃ علما ہند اور آمسو کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ فضیل احمد ایوبی کے توسط سے پیر کو داخل اہم پٹیشن پر سپریم کورٹ میں جسٹس ایس ایم نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی دو رکنی بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔ تاہم مرکزی اور آسام حکومت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے باوجود اب تک جواب داخل نہ کیے جانے کی وجہ سے عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
جمعیۃ علما ہند کی جانب سے پیش سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے اور اب انہیں اپنا اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ کپل سبل نے عدالت کو مزید بتایا کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جمعیۃ علما ہند کی پٹیشن پر جواب داخل کیا جا چکا ہے، جس کے جواب میں جمعیۃ علما ہند کی جانب سے جلد ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔
انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی طرف بھی مبذول کرائی کہ حتمی این آر سی کی اشاعت کے 6 سال گزر جانے کے باوجود اس میں شامل افراد کو اب تک قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مرکزی اور آسام حکومتوں کا نوٹس کے باوجود جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے 6 سال بعد بھی قانونی عمل کو مکمل نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے دانستہ طور پر زندہ رکھا جا رہا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ماضی میں اس حساس مسئلے کو لے کر آسام میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر اکثریت کی نگاہ میں ان کی حیثیت کو مشکوک بناتی رہی ہیں، جس کی وجہ وہاں سماجی سطح پر ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے۔ پنچایت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لیے حتمی تاریخ کے تعین کا معاملہ ہو یا پھر ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی سازش، جمعیۃ علما ہند ہر ایسے موقع پر مظلوموں کے ساتھ پوری طاقت سے کھڑی رہی اور ان کے مقدمات کامیابی کے ساتھ لڑتی آئی ہے۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ بی جے پی کی موجودہ ریاستی حکومت امتیاز اور نفرت کی سیاست اور مسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور سیاسی فائدے کے لیے وہ شہریت کے مسئلے کو بدستور زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتمی این آر سی کے بعد بھی لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے میں دانستہ چھ سال سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل کو قانون کے مطابق مکمل کرنا ریاست میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے لیے نہایت ضروری ہے اور یہ مساوات، اخوت اور قانون کی حکمرانی جیسے آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ صدر جمعیۃ علما ہند مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی اور سرپرستی میں مولانا مشتاق عنفر، صدر جمعیۃ علما آسام، این آر سی اور پنچایت سرٹیفکیٹ 6اے جیسے اہم مقدمات 14 سال سے لڑتی رہی اور کامیابی بھی ملی، کیونکہ آسام کا مسئلہ ایک حساس مسئلہ تھا۔ اگر فرقہ پرست عناصر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو ایک اندازے کے مطابق لاکھوں مسلمانوں کی شہریت کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مولانا مشتاق عنفر، صدر جمعیۃ علما آسام، مولانا کلیم الدین، آمسو کے صدر اور دیگر عہدیداران موجود رہے۔
واضح ہو کہ آسام کے سابق این آر سی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو شرما کی اُس عرضی کو بھی اس معاملے کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس میں این آر سی فہرست کی ازسرِ نو تصدیق، اس میں موجود خامیوں اور غلطیوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آسام این آر سی کو 2013 سے 2019 تک سپریم کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا۔ رجسٹرار جنرل آف انڈیا اور ریاستی کوآرڈینیٹر کی جانب سے مشترکہ طور پر شائع شدہ حتمی این آر سی برسوں کی باریک بینی سے معلومات کے موازنے کی بنیاد پر کی گئی 3.3 کروڑ درخواستوں کی جانچ پڑتال کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد آسام میں شہریت کے دہائیوں پرانے مسئلے کا قانونی اور حتمی حل فراہم کرنا تھا۔
تاہم، حتمی این آر سی کے شائع ہونے کے چھ سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود، حکام اب تک قانون کے تحت لازمی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں، یعنی تین کروڑ گیارہ لاکھ مستحق شہریوں کو نیشنل شناختی کارڈز جاری کرنا، جیسا کہ شہریت (شہریوں کا اندراج اور نیشنل آئیڈنٹیٹی کارڈز کا اجرا) قواعد، 2003 کے قاعدہ 13 کے تحت لازم ہے، اور مسترد شدہ افراد (تقریباً 19 لاکھ) کو ریجیکشن سلپس جاری کرنا اور اپیل کا آغاز کرنا، جیسا کہ قاعدہ 4A کے شیڈول کے پیرا 8 میں درج ہے۔
