Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گیمرز کے لیے بڑی خوشخبری: ’جی ٹی اے 6‘ کی نئی اور طویل جھلک کب اور کہاں جاری ہوگی؟ پتہ چل گیا

      دنیا کا پہلا ’روبوٹ اسکول‘ کھل گیا: 30 ہیومینائڈ روبوٹس کی پہلی کلاس، سلیبس کیا اور امتحان کیسے ہوگا؟

      آرٹیفیشل انٹیلی جنس عالمی خطرہ: میٹا کے اے آئی ماڈل نے دوسری کمپنی کو ہیک کر لیا!

      اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بڑی تبدیلی: ”گوگل اسٹنٹ کے 10 سالہ دور کا خاتمہ “ متبادل متعارف کرا دیا گیا!

      اسپورٹس کا مستقبل بھی بدل گیا، روبوٹس کا سنسنی خیز مارشل آرٹس مقابلہ: شکست کے بعد مشین کاجشن، ویڈیو وائرل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :حاجی فضل محمود انجم

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    ہر سال جب بھی پنجاب بھر کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کلاسز کے نتائج سامنے آتے ہیں تو مبارک بادوں اور مبارک سلامت کے میسجز کے ساتھ ایک نئی بحث بھی جنم لینا شروع ہو جاتی ہے۔ 1191، 1181،1175 اور 1200 میں سے 1192 نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی خبریں سوشل میڈیا پر نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ والدین بھی بڑھ چڑھ کر اس سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں اور انجواۓ کرتے ہیں ۔ بظاہر تو یہ تعلیمی ترقی کی علامت ہی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی معیارِ تعلیم میں بہتری کی بناء پر ہو رہا ہے یا صرف یہ نمبروں کی ایک دوڑ ہے جوکہ طلبہ و طالبات کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔
    تعلیم کا بنیادی مقصد صرف امتحان میں زیادہ نمبر لینا ہرگز نہیں ہے بلکہ اسکا مقصد ایک باشعور و باکردار، تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کا حامل طالب علم اور ایک ذمہ دار انسان بنانا ہے۔ اگر پورا نظام امتحان صرف نمبروں کے گرد ہی گھومنے لگے تو طلبہ کی توجہ علم حاصل کرنے کے بجائے ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ نمبر لینے پر مرکوز ہو جاتی ہے اور والدین کی توقعات بھی اسی نکتے پر دکھائی دیتی ہیں۔ نتیجتاً تحقیق، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور طلبہ ہر وہ حربہ و طریقہ استعمال کرتے چلے جاتے ہیں جو انہیں نمبروں کی اس دوڑ میں ٹاپ ہوزیشن ہر لے جاۓ۔
    آج والدین، اساتذہ اور طلبہ سب بلاء سوچے سمجھے ایک ایسی دوڑ کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں جہاں پہ کامیابی و کامرانی کا معیار صرف مارکس شیٹ بن کر رہ گئی ہے۔ چند نمبروں کا فرق اگر ایک طرف طلبہ کے اعتماد و یقین، مستقبل کے انتخاب اور ذہنی سکون پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس کیساتھ ہی یہ رجحان نوجوانوں میں غیر ضروری ذہنی دباؤ،ڈپریشن اور مایوسی کو بھی جنم دیتا چلا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امتحانی نظام کو حقیقت میں اس انداز میں ترتیب دیا جائے جہاں صرف یادداشت جانچنا ہی مقصد نہ ہو بلکہ بچے کے فہم و ادراک، مشاہدہ، تحقیقی و تخلیقی سوچ اور عملی و عقلی صلاحیتوں کو بھی جانچنا بھی مقصد اولین ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس نظام میں فی الحال تو یہ سب کچھ مفقود دکھائی دیتا ہے۔ایک طالب علم زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کیلئے رٹا سسٹم پر انحصار کرتا ہے۔یوں اتنے نمبر لینے کے باوجود بھی اس میں وہ صلاحیت و قابلیت نظر نہیں آتی جو اس کامیابی کا تقاضہ ہونا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی طلبہ کی کامیابی و کامرانی صرف امتحانی نمبروں سے نہیں بلکہ ان کی مجموعی صلاحیت، کردار، تحقیق اور عملی کارکردگی سے جانچی جاتی ہے۔
    زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے بہر حال اسکے لئے محنت کی ہوئی ہوتی ہے تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہمارا تعلیمی نظام ایسے نوجوان تیار کرے گا جو معاشرے کے مسائل کوطحل کرنے، نئی نئی ایجادات کرنے، بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور ملک کی ترقی میں مؤثرد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
    وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نمبروں کی دوڑ سے نکل کر معیاری تعلیم، کردار سازی اور عملی مہارتوں کو اپنی ترجیح بنائیں کیونکہ قومیں صرف زیادہ نمبر لینے والوں سے نہیں بلکہ زیادہ علم، زیادہ تدبر، بہتر کردار اور اعلیٰ و ارفع صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں سے ترقی کرتی ہیں۔

    Related Posts

    سرکاری سکولوں کی شاندار کامیابی — ضلع لیہ کے روشن مستقبل کی نوید

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    مقبول خبریں

    اٹلی نے سرحدی نگرانی کے معاملے میں اسپین کے الٹی میٹم کو خارج کر دیا

    ’امریکہ کو جنگ سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے‘، امریکی فوج کے اعلیٰ افسر کی ٹرمپ کے قریبیوں سے اپیل

     نوجوان کوزہر دے کر مار  دیاگیا ، مقتول کے والد کی انصاف کی اپیل

    شادی کا جھانسہ دے کرلے جانے والے کا خاتون پرتشدد،گھرسے نکال دیا

    معاشی بحالی کیلئے سٹریٹجک پروجیکٹس کا آغاز،نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے:چیف سیکرٹری بلوچستا ن

    بلاگ

    سرکاری سکولوں کی شاندار کامیابی — ضلع لیہ کے روشن مستقبل کی نوید

    اور:- یہ نمبروں کی دوڑ ، کہیں تعلیم کا زوال تو نہیں

    بیٹی کی ہاتھ میں قرآن اٹھاکرتحفظ کی فریاد،قانون حرکت میں نہ آیا،باپ قتل

    ”اعلیٰ افسران سے کانسٹیبل تک ڈرگ ٹیسٹ کا مطالبہ“

    ”غازی آباد سے اٹھی چنگاری، کیا پنجاب پولیس میں احتساب کا طوفان آئے گا ؟“

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.