Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایلون مسک کی اسپیس ایکس کا آوارہ راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار، 3ٹن TNT کے برابر دھماکے سے 90 فٹ چوڑا گڑھا پڑ جائیگا

      ایپل کا بڑا بم: اب ”ہیلو ‘سری’ (Siri) “ سے پوچھنے کے لیے آئی فون صارفین کو بڑی قیمت چکانا ہوگی!

      لاہور ہائیکورٹ کا کرپٹو کرنسی پر اہم فیصلہ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے اہم قانونی اصول طے کردیا

      سیاسی دشمنیاں بھلا کر پارلیمنٹ کا انوکھا اتحاد: پی ٹی آئی اور حکومت خواتین کو عبایا سے ’آزاد‘ کرانے پر ایک پیج پر آ گئے!

      کیا مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی جنگ میں امریکا نے بازی پلٹ دی ہے؟ چینی روبوٹس پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر کھلبلی مچ گئی!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

     شانگلہ… جہاں پہاڑ آج بھی سرسبز مگر ہر گھر ماتم کدہ بن چکا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :ریاض ابوالخیل

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    قدرت نے شانگلہ کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، بہتے چشمے اور دل موہ لینے والی وادیاں اس دھرتی کا حسن ہیں، مگر اسی حسین سرزمین کے سینے میں ایک ایسا درد دفن ہے جس کی آہٹ شاید ہی کسی نے محسوس کی ہو۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں فطرت تو مسکراتی ہے، مگر ہزاروں آنکھیں ہر روز اپنے پیاروں کی جدائی میں اشک بہاتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شانگلہ میں اس وقت پانچ سو سے زائد خواتین بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے سہاگ یا تو کوئلے کی اندھیری کانوں میں ہمیشہ کے لیے بجھ گئے، یا روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں محنت مزدوری کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ غربت نے ان مردوں کو اپنے گھروں سے دور کیا، مگر قسمت انہیں کبھی واپس نہ لا سکی۔

    یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ پانچ سو سے زیادہ اجڑے ہوئے گھرانوں کی داستان ہے۔ یہ ان ماؤں کی خاموش سسکیاں ہیں جن کے سروں سے سایہ چھن گیا، اور ان عورتوں کی بے بسی ہے جو ہر صبح اپنے بچوں کی بھوک اور مستقبل کی فکر کے ساتھ ایک نئی آزمائش کا سامنا کرتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اس غم زدہ علاقے میں تقریباً چھ سو یتیم بچے بھی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ معصوم بچے ہر عید، ہر خوشی اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے والد کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی نظریں آج بھی دروازے کی طرف اٹھتی ہیں، جیسے انہیں یقین ہو کہ شاید ایک دن ان کے ابو واپس لوٹ آئیں گے، مگر حقیقت ان کے انتظار سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

    دل کو سب سے زیادہ رنج اس بات کا ہوتا ہے کہ ان بیواؤں اور یتیم بچوں کی ایک بڑی تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سے گھروں میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک آزمائش بن چکا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات ان خاندانوں کے لیے ایک خواب بنتی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

    شانگلہ کے بے شمار نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کوئلے کی کانوں میں اترتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کان کا ہر سفر واپسی کی ضمانت نہیں، مگر غربت کی زنجیریں انہیں موت کی دہلیز تک لے جاتی ہیں۔ کئی بار کانیں ان کے لیے رزق نہیں بلکہ قبر ثابت ہوتی ہیں، اور پھر ایک اور گھر میں قیامت برپا ہو جاتی ہے۔

    یہ صورتحال صرف شانگلہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان بیواؤں اور یتیم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا ان خاندانوں کی قربانیاں صرف خبروں کی سرخیاں بن کر رہ جائیں گی؟ کیا ان کے لیے مستقل روزگار، مالی معاونت، تعلیم اور سماجی تحفظ کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہونا چاہیے؟

    وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، فلاحی ادارے، مخیر حضرات اور معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت فرد ان خاندانوں کی دستگیری کے لیے آگے بڑھے۔ اگر آج ان یتیم بچوں کے ہاتھ تھام لیے جائیں، تو یہی بچے کل اس معاشرے کا روشن مستقبل بن سکتے ہیں۔ اگر ان بیواؤں کو سہارا مل جائے، تو ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چراغ دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔

    شانگلہ کے پہاڑ آج بھی سرسبز ہیں، مگر ان کی فضاؤں میں سینکڑوں ادھورے خوابوں کی آہیں گونجتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خاموش سسکیوں کو سنا جائے، ان آنسوؤں کو پونچھا جائے اور ان خاندانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ تنہا نہیں، بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    Related Posts

    شانگلہ کے غم زدہ پہاڑ اور کوئلے کی سیاہ قسمت

    شانگلہ میں قیامت صغریٰ

    اٹک ؛ کوبرا گینگ کا خاتمہ، سہیل ظفر چٹھہ ، اور دو سردار پولیس افسر دہشت کے خلاف جنگ کے ہیرو بن گئے

    مقبول خبریں

    اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنا انسانیت اور ہندوستانیت کے دامن پر بدنما داغ: مولانا محمود مدنی

    آزاد کشمیر قانون سازاسمبلی کے دوسرے مرحلے کے الیکشن،ن لیگ نے میدان مارلیا

    آزاد کشمیر قانون سازاسمبلی:دوسرے مرحلےکے انتخابات: ن لیگ 4 اور پی پی ایک نشست پر کامیاب

    احتجاجی مظاہرے کے دوران دھماکا،25 سے زائد افراد شدید زخمی

    "اصل معافی کس کو مانگنی چاہیے؟” : راہل گاندھی ،عوام کے وزیراعظم مودی سے تیکھے سوالات

    بلاگ

     شانگلہ… جہاں پہاڑ آج بھی سرسبز مگر ہر گھر ماتم کدہ بن چکا

    شانگلہ کے غم زدہ پہاڑ اور کوئلے کی سیاہ قسمت

    شانگلہ میں قیامت صغریٰ

    اٹک ؛ کوبرا گینگ کا خاتمہ، سہیل ظفر چٹھہ ، اور دو سردار پولیس افسر دہشت کے خلاف جنگ کے ہیرو بن گئے

    کاز ویز نہیں، پل چاہیے تھے! دلجبہ سیکٹر کے عوام آخر کب تک یہ منظر دیکھتے رہیں گے؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.