Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

     شانگلہ… جہاں پہاڑ آج بھی سرسبز مگر ہر گھر ماتم کدہ بن چکا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :ریاض ابوالخیل

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    قدرت نے شانگلہ کو بے مثال حسن سے نوازا ہے۔ سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، بہتے چشمے اور دل موہ لینے والی وادیاں اس دھرتی کا حسن ہیں، مگر اسی حسین سرزمین کے سینے میں ایک ایسا درد دفن ہے جس کی آہٹ شاید ہی کسی نے محسوس کی ہو۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں فطرت تو مسکراتی ہے، مگر ہزاروں آنکھیں ہر روز اپنے پیاروں کی جدائی میں اشک بہاتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شانگلہ میں اس وقت پانچ سو سے زائد خواتین بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے سہاگ یا تو کوئلے کی اندھیری کانوں میں ہمیشہ کے لیے بجھ گئے، یا روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں محنت مزدوری کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ غربت نے ان مردوں کو اپنے گھروں سے دور کیا، مگر قسمت انہیں کبھی واپس نہ لا سکی۔

    یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ پانچ سو سے زیادہ اجڑے ہوئے گھرانوں کی داستان ہے۔ یہ ان ماؤں کی خاموش سسکیاں ہیں جن کے سروں سے سایہ چھن گیا، اور ان عورتوں کی بے بسی ہے جو ہر صبح اپنے بچوں کی بھوک اور مستقبل کی فکر کے ساتھ ایک نئی آزمائش کا سامنا کرتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اس غم زدہ علاقے میں تقریباً چھ سو یتیم بچے بھی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ معصوم بچے ہر عید، ہر خوشی اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے والد کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی نظریں آج بھی دروازے کی طرف اٹھتی ہیں، جیسے انہیں یقین ہو کہ شاید ایک دن ان کے ابو واپس لوٹ آئیں گے، مگر حقیقت ان کے انتظار سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

    دل کو سب سے زیادہ رنج اس بات کا ہوتا ہے کہ ان بیواؤں اور یتیم بچوں کی ایک بڑی تعداد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بہت سے گھروں میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک آزمائش بن چکا ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات ان خاندانوں کے لیے ایک خواب بنتی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

    شانگلہ کے بے شمار نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کوئلے کی کانوں میں اترتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کان کا ہر سفر واپسی کی ضمانت نہیں، مگر غربت کی زنجیریں انہیں موت کی دہلیز تک لے جاتی ہیں۔ کئی بار کانیں ان کے لیے رزق نہیں بلکہ قبر ثابت ہوتی ہیں، اور پھر ایک اور گھر میں قیامت برپا ہو جاتی ہے۔

    یہ صورتحال صرف شانگلہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان بیواؤں اور یتیم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا ان خاندانوں کی قربانیاں صرف خبروں کی سرخیاں بن کر رہ جائیں گی؟ کیا ان کے لیے مستقل روزگار، مالی معاونت، تعلیم اور سماجی تحفظ کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہونا چاہیے؟

    وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، فلاحی ادارے، مخیر حضرات اور معاشرے کا ہر صاحبِ استطاعت فرد ان خاندانوں کی دستگیری کے لیے آگے بڑھے۔ اگر آج ان یتیم بچوں کے ہاتھ تھام لیے جائیں، تو یہی بچے کل اس معاشرے کا روشن مستقبل بن سکتے ہیں۔ اگر ان بیواؤں کو سہارا مل جائے، تو ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چراغ دوبارہ روشن ہو سکتے ہیں۔

    شانگلہ کے پہاڑ آج بھی سرسبز ہیں، مگر ان کی فضاؤں میں سینکڑوں ادھورے خوابوں کی آہیں گونجتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خاموش سسکیوں کو سنا جائے، ان آنسوؤں کو پونچھا جائے اور ان خاندانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ تنہا نہیں، بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    Related Posts

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    مقبول خبریں

    گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیوں پر قانونی شکنجہ سخت، نجی اداروں میں شامل

      مسجد کے اندر 80 سالہ بزرگ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    کوہاٹ، پولیس لائن کے قریب دھماکا، 15 جاں بحق 50 سے زائدزخمی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے رپورٹ طلب کرلی

     بس سے گر کر نجی کالج کا طالب علم جاں بحق، ساتھی طلبہ کا شدید احتجاج

    کرپشن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ڈپٹی کمشنرکی متعدد افسران اور ملازمین کے خلاف سخت کارروائی

    بلاگ

    خلیج اور فارس کی جنگ—امکانات، اثرات اور پاکستان کی حکمتِ عملی

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.