لندن :امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے باوجود عالمی مارکیٹ میں پیلا دھات یعنی سونا ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی پہلی اور محفوظ ترین ترجیح بن گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 1.6 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی اونس سونا 4,100 ڈالر کی تاریخی حد کو عبور کر گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی سونے کے نرخوں میں تقریباً ایک فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران پر جاری فضائی حملوں کا سلسلہ بغیر کسی باضابطہ اعلان کے روک دیا گیا تھا، جبکہ تہران کی طرف سے بھی فوری انتقامی کارروائی سے گریز کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، عمان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اور تجارتی راستوں کو بحال کرنے کے لیے اہم سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔
اگرچہ خطے میں جاری جغرافیائی تناؤ اور جنگی صورتحال میں وقتی طور پر نرمی آئی ہے، لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سرمایہ کار بدستور غیر یقینی معاشی حالات اور مستقبل کے خطرات کے پیش نظر سونے کو سب سے محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) تصور کر رہے ہیں۔ اسی مسابقت اور خریداری کے شدید رجحان کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار اور مستحکم ہیں۔

