تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور کی چمکتی سڑکوں پر روزانہ ہزاروں لوگ اپنے خوابوں کی تلاش میں نکلتے ہیں، مگر انہی میں ایک ایسا سفید پوش باپ بھی ہے جو اپنی خواہشات نہیں، صرف اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ گرین ٹاؤن لاہور کا رہائشی یہ نوجوان اردو بازار میں ملازمت کرتا ہے، مگر محدود تنخواہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اسے ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو کسی بھی باپ کے لیے آسان نہیں۔ وہ روزانہ گھر آنے کے بجائے اردو بازار کے قریب ہی رہتا ہے اور صرف ہفتے کی رات اپنے بیوی بچوں سے ملنے جاتا ہے، تاکہ روزانہ آنے جانے کا کرایہ بچا کر اپنے بچوں کی ضروریات پر خرچ کر سکے۔ محلے والے اس کی ایمانداری، سادگی اور محنت کی مثال دیتے ہیں۔ وہ نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے، نہ شکایت کرتا ہے، مگر اس کی خاموشی میں مہنگائی کے ہاتھوں پسنے والے لاکھوں سفید پوش خاندانوں کی داستان چھپی ہوئی ہے۔
یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ ان بے شمار باعزت پاکستانیوں کی تصویر ہے جو اپنی عزتِ نفس بچاتے ہوئے ہر روز معاشی مشکلات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ آخر کب تک ایک محنت کش باپ کو اپنے بچوں سے ملنے کے لیے بھی کرایہ گننا نہیں پڑے گا؟


