اسلام آباد:عدالتِ عظمیٰ نے نیب مقدمات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلہ صادر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اب نیب کیسز سننے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں رہا ہے۔ نیب ترمیمی قانون کے تحت تمام مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں اب براہِ راست "وفاقی آئینی عدالت” کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر تمام زیر التوا نیب کیسز اب وفاقی آئینی عدالت منتقل تصور ہوں گے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ 5 مارچ 2026 کو کی جانے والی نیب ترامیم اور قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کے پاس نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قانونی طور پر ناممکن ہے کہ کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ میں چلے اور دوسرا حصہ آئینی عدالت میں سنا جائے۔
عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا کہ محض کسی فریق یا سائل کی ذاتی ترجیح اور رضامندی پر کوئی نیا قانونی فورم یا "فورم شاپنگ” کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ قانون ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس عدالت میں چلنا چاہیے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کے وکیل نے بھرپور دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نیب کے تمام مقدمات اور ضمانت کی درخواستیں اب صرف وفاقی آئینی عدالت میں ہی چلائی جانی چاہئیں، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت اور اپیل کا معاملہ بھی اب وفاقی آئینی عدالت کے سپرد ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ نیب کیسز سننے کا اختیار ختم، عمران خان سمیت تمام کیسزوفاقی آئینی عدالت منتقل

