نوشہروفیروز ( رپورٹ ڈسٹرکٹ رپورٹر رجب علی سمون )
موصوف جاوید آفتاب ٹانوری، انجینئر اسکارپ ضلع نوشہرو فیروز، جنہوں نے اسکارپ محکمے کا نظام تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کی نااہلی کے باعث اسکارپ کے سیکڑوں سرکاری ٹیوب ویل بند پڑے ہیں۔ بیشتر ٹیوب ویلوں کے انجن، تاریں، ٹرانسفارمر اور دیگر سامان غائب ہیں۔ہر تین ماہ بعد ٹیوب ویلوں کی مرمت اور بحالی کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ جاری ہوتا ہے، مگر الزام ہے کہ یہ رقم بھی خرد برد کر لی جاتی ہے۔
ہر ٹیوب ویل پر ایک آپریٹر اور ایک چوکیدار تعینات ہوتا ہے، لیکن یہ ملازمین بھی صرف کاغذوں میں موجود ہیں (ویزا پر ہیں)، اور ان کی تنخواہوں سے ملنے والی مبینہ کمیشن بھی آسانی سے ٹانوری صاحب تک پہنچ جاتی ہے۔اس صورتحال کے باعث ایک سے پانچ ایکڑ زمین رکھنے والے غریب کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اس مبینہ کرپشن کے ماسٹر مائنڈ اور بے تاج بادشاہ جاوید آفتاب ٹانوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے، اور اسکارپ محکمے میں ایک فرض شناس اور دیانتدار افسر تعینات کیا جائے۔بند پڑے سیکڑوں ٹیوب ویلوں کو دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ پانی کی قلت کے باعث غیر آباد ہونے والی زمینوں تک دوبارہ پانی پہنچ سکے اور وہ آباد ہو سکیں۔ اس سے غریب کسان اور آبادگار اپنا اور اپنے بچوں کا بہتر طریقے سے گزر بسر کر سکیں گے۔ اگر آبادگار اور کسان خوشحال ہوں گے تو سندھ بھی خوشحال ہوگا۔

