تحریر راؤ ناصر علی شادابی
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
منشیات نے نوجوان نسل تباہ کردی روک تھام کی ضرورت ہے سرائے سدھو شہر کے مکینوں کے دیگر مسائل اپنی جگہ مگر منشیات کی لعنت نے نوجوان نسل کی زندگیاں اموات میں بدل کر خاندان کے خاندان تباہ کردیئے ملک کا کل سنوارنے والے معماروں کے ہاتھوں میں قلم کتابوں کی کی جگہ چرس بھرے اور ہیروئن کے سگریٹوں سمیت دیگر نشہ آور انجکشن دیکھ کر جہاں عام آدمی انتہائی دکھ محسوس کرتا ہے ان والدین کی کیا کیفیت ہوگی جن کے لخت جگر اور بڑھاپے کے سہارے ان کی آنکھوں کے سامنے سسک سسک کر مرجائیں جن کی پیدائش پر ہزاروں سہانے خواب سجائے امیدیں لگائے پرورش کرتے ہیں مگر جب معلوم ہوتا ہے کہ بیٹا منشیات کے ناسور دھندے کے سوداگروں کے ہاتھوں زندگی داؤ پر لگا چکا ہے تو ناصرف خواب چکنا چور ہوتے ہیں بلکہ زندہ جی مرجاتے ہیں – راقم الحروف نے کئی خوبرو نوجوانوں کی گندے پانی کے ندی نالوں کھیت کھلیانوں میں نشہ آور ادویات انجکشن سمیت دیگر جان لیوا نشہ کے ساتھ لاشیں پڑی دیکھی ہیں جن میں اکثر برہنہ حالت میں بھی تھے ذرا سوچیئے والدین نے کس دل کے ساتھ دفنایا ہوگا کون ہیں ان نوجوانوں کے قاتل منشیات کے سوداگر پولیس یا پھر وہ دوست جو انہیں نشہ کا عادی بنا گئے راقم کی نظر میں تمام تر ذمہ داری انتظامیہ قانون نافظ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے کیوں نا والدین اپنے پیارے لخت جگروں کے اموات کی ،ایف آئی آر، انتظامیہ اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کے خلاف کرائیں تاکہ وہ ادارے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایسے ناسوروں سماج دشمن عناصر کا قلع قمع کرنے میں فرائض منصبی پورے کریں تاحال پولیس محکمہ جرائم خاتمہ میں کردار ادا کرنے کے بجائے جرائم کے پنپنے میں کردار ادا کررہی ہے –
سرائے سدھو شہر میں نسل درنسل منشیات فروشی کا دھندہ کرنے والے خاندانوں سے مقامی پولیس مبینہ طور پر منتھلی لیتی ہے – جب معاملات میڈیا میں ہائی لائٹ ہوتے ہیں افسران کا دباؤ بڑھتا ہے تو منشیات فروشوں کی شامت آجاتی ہے اب صورتحال یہ ہے کہ سرائے سدھو باگڑ سرگانہ سردار پور چوپڑہٹہ مست پور کے علاقے منشیات فروشی کا گڑھ بن چکے ہیں جبکہ میڈیکل سٹوروں پر ہر قسم کے نشہ آور سیرپ انجکشن اور گولیاں مل جاتی ہیں سرائے سدھو باگڑ سرگانہ سردار پور چوپڑہٹہ مست پور میں پھیری پر کپڑا، فروٹ برتن بھانڈے چپس چاٹ وغیرہ بیچنے والے پس پردہ منشیات کا مکروہ دھندہ کرتے ہیں بلیئرڈ کلبوں میں بیٹھ کر نوجوانوں کو چرس بھرا سگریٹ کے سوٹے لگواکر عادی بنایا جاتا ہے بعد ازاں عادی کرکے خرید کر پینے کیلئے مجبور کرتے ہیں سکولوں کالجوں فیکٹریوں بھٹہ مزدوروں سمیت دیگر پبلک مقامات پر بچوں اور محنت کشوں کو ہدف بنایا جاتا ہے موت کے ان منشیات فروش سوداگروں نے منشیات کی بچوں کے ذریعے ہوم ڈلیوری بھی شروع کررکھی ہے اگر فوری طور پر منشیات کی روک تھام کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو ناصرف نوجوان نسل کا مستقبل بلکہ ملک کا مستقبل بھی تاریکی کی نذر ہوجائے گا قانون نافظ کرنے والے ادارے بلاتفریق و بلا امتیاز سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت و بے رحم کارروائی کرکے والدین کی دعائیں سمیٹیں کہتے ہیں کہ ایک پیسہ حرام کا اولاد کا کھلایا تو وہ حرامیوں جیسے کرتوت کرے گی خدارا نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹنے والے ان کیڑے کو ختم کرکے لاکھوں والدین کے بڑھاپے کے سہاروں کو بچائیں اس کا اجر خدا دے گا –


