اسلام آباد ( بے نقاب تحقیقی رپورٹ)
جون 2020 میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین پیٹرول بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، سپلائی کی بندش اور مصنوعی قلت نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ اب انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ نے اس بحران کی ایسی پرتیں کھولی ہیں جنہوں نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا اس بحران کے اصل ذمہ داروں کا مکمل احتساب کبھی ہو سکا؟ وفاقی کابینہ کی ہدایت پر قائم کیے گئے انکوائری کمیشن، جس کی سربراہی اسوقت کے ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ابو بکر خدا بخش نے کی ان پر سخت دباو اور اتنی بڑی آفر کی گئی کہ انکے علاوہ کوئی اور ہوتا تو شائد پٹرول بحران کی پرتیں کھبی نہ کھلتی لیکن ایماندار افسر ابوبکر خدا بخش اعوان نے اپنی ایک دلیر اور کمیشن کے اہم ممبر کے ساتھ مشاورت کے بعد 21 ابواب پر مشتمل رپورٹ میں واضح کیا کہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ریگولیٹری اداروں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بعض ریفائنریز اور متعلقہ حکام کی مسلسل غفلت، کمزور نگرانی اور ناقص پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ منتقل نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس بعض کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سستا تیل ذخیرہ کر کے بعد میں مہنگے داموں فروخت کیا، جس سے اربوں روپے کا غیر معمولی منافع حاصل کیا گیا جبکہ عام شہری بحران کا شکار رہے۔
تحقیقات میں اوگرا، پٹرولیم ڈویژن، پانچ بڑی ریفائنریز اور 66 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ بعض کمپنیوں نے لازمی ذخائر برقرار رکھنے کی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی جبکہ ریگولیٹری نگرانی بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔
یہ انکشافات اس وقت سامنے آنے والی ابتدائی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جن میں مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی، درآمدات میں تاخیر اور سپلائی چین کی بدانتظامی کو بحران کی بنیادی وجوہات قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں نے بھی متعدد کمپنیوں کے خلاف کارروائیوں، جرمانوں اور لائسنسوں کے جائزے کی سفارشات پیش کیں۔
تاہم اہم سوال آج بھی برقرار ہے اگر بحران کی وجوہات، ذمہ داریاں اور کمزوریاں برسوں پہلے سامنے آ چکی تھیں تو کیا اس کے بعد ایسا نظام قائم کیا گیا جس سے مستقبل میں ایسے بحرانوں کا راستہ روکا جا سکے؟ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ریگولیٹری نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی، شفاف درآمدی نظام اور بروقت احتساب یقینی نہیں بنایا جاتا، اسی نوعیت کے بحران دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ صرف 2020 کے بحران کی داستان نہیں بلکہ پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر میں موجود ان دیرینہ انتظامی اور ریگولیٹری مسائل کی نشاندہی بھی کرتی ہے جن کے حل کے بغیر عوام کو بار بار قلت، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
’پیٹرول بحران ‘ کیا مافیا آج بھی طاقتور ہے؟ کمیشن رپورٹ ضرور پڑھیں

