اسلام آباد: خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث قطر سے ملنے والی گیس کی سپلائی متاثر ہونے پر پاکستان نے ایل این جی (LNG) کا ایک اور مہنگا کارگو خرید لیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے ٹوٹل اینرجیز (TotalEnergies) سے 10 سے 11 جولائی کو ڈیلیوری کے لیے ایک کارگو 17.37 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس (mmBtu) کے عوض خریدا ہے۔ یہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے کی گئی دوسری سپاٹ خریداری ہے، جس کا مقصد قطر سے منسوخ شدہ ان سپلائیز کی کمی کو پورا کرنا ہے جو خلیج فارس میں پھنسی ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے ایل این جی ٹریفک میں کسی حد تک بہتری تو آئی ہے، تاہم گیس کی ترسیل ابھی تک جنگ سے پہلے کی معمول کی سطح پر نہیں آ سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
پاکستان، جو پہلے ہی شدید معاشی مشکلات اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کے دباؤ کا شکار ہے، اسے اپنی صنعتوں اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے گیس کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر سے سپلائی کا تعطل نہ صرف پاکستان کے لیے درآمدی بل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ مقامی سطح پر گیس کی قلت کے خدشات کو بھی بڑھا رہا ہے۔
حکام اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں توانائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
قطر سے گیس سپلائی متاثر، پاکستان نے عوام کی سہولت کیلئے مہنگا LNG کارگو خرید لیا، بلومبرگ

