لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے ڈیفنس میں ملزم رضا ڈار اور ساتھیوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے والے SHO کیخلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا، 2 پولیس اہلکار بھی FIR میں نامزد مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے شکایت پر ہوا۔
ایف آئی آر کے مطابق، یکم اور دو جولائی کی درمیانی شب ایس ایچ او ڈیفنس سی اپنے دو ماتحت اہلکاروں کے ہمراہ جوڈیشل ریسٹ ہاؤسز میں واقع جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے۔پولیس کو خواتین کے 164 کے بیان کی اتنی جلدی تھی کہ پرسوں رات SHO رات کو 2 بجے جج صاحب سے ہتک آمیز اور دھمکی آمیز رویے میں کہنے لگا کہ فوری DIG سے فون پر بات کریں،مجسٹریٹ نے بتایا کہ جب وہ اپنے بیڈ روم سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایس ایچ او بمعہ نفری ان کے کمرے کے باہر موجود تھا۔ ملزمان نے نہایت دھمکی آمیز لہجے میں مجسٹریٹ کا نام پوچھا اور انہیں اعلیٰ پولیس افسر سے بات کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

اس شرمناک واقعے کا مقدمہ تھانہ مصطفیٰ آباد میں جوڈیشل ریسٹ ہاؤسز کے کیئر ٹیکر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایس ایچ او ڈیفنس سی اور دیگر پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے، جس میں ان پر طاقت کا غلط استعمال اور سرکاری گھر میں زبردستی داخل ہونے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مجسٹریٹ کی شکایت پرملزم رضا ڈار اور ساتھیوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے والے SHO، ساتھیوں کیخلاف بھی مقدمہ درج

