
ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے چکوال واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد سی سی ڈی کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھی ہیں، جس کا بوجھ پورے محکمے کو اٹھانا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چکوال واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ناصرف انصاف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ انہوں نے سخت تنبیہ کی کہ ٹارگٹ کی درست نشاندہی کے بغیر گولی چلانا درست عمل نہیں ہے۔
سہیل ظفر چٹھہ نے افسران کو ہدایت کی کہ سی سی ڈی میں انسانی حقوق (Human Rights) پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا گرفتار ملزم کو پینے کا صاف پانی، کھانا اور ادویات کی فراہمی ہماری قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ملزم کو تھانے کے علاوہ کسی بھی پرائیویٹ جگہ رکھنا سنگین جرم ہے اور اس پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ پنجاب سے "ڈالا کلچر” کے خاتمے کا کریڈٹ سی سی ڈی کو جاتا ہے۔ انہوں نے افسران کی ہمت اور دلیری کو سراہتے ہوئے کہا کہ سی سی ڈی کی محنت سے صوبے میں جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے اور عوام قاتلوں، ڈاکوؤں اور اغواء کاروں کے خوف سے باہر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی محبت نے ہم پر بھاری ذمہ داری عائد کر دی ہے، اب ہمیں اپنے عمل سے اس محبت کا جواب دینا ہے۔
سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سی سی ڈی میں خود احتسابی کا واضح نظام موجود ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ اپنی کالی بھیڑوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران اور جوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اجلاس میں ڈی آئی جی وقاص الحسن سمیت پنجاب بھر سے سی سی ڈی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔


