لاہور: پنجاب کی سابق وزیرِ صحت اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے اہلِ خانہ اور کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی وفات کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ زندہ، خیریت سے ہیں، ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ بدستور جیل میں زیرِ حراست ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی وفات سے متعلق افواہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئیں، جس کے باعث ان کے حامیوں، اہلِ خانہ اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں، اور عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اطلاعات شیئر کرنے سے گریز کریں تاکہ بے بنیاد افواہوں اور غیر ضروری خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ نے بھی ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سابق صوبائی وزیر بدستور جیل میں موجود ہیں اور ضرورت کے مطابق ان کا معمول کا طبی معائنہ بھی کیا جا رہا ہے۔ جیل حکام نے زور دے کر کہا کہ ان کی وفات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تمام خبریں سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کرنے یا انہیں آگے پھیلانے کے بجائے صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شخصیات کے بارے میں جھوٹی خبریں نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ عوام میں بھی غیر ضروری تشویش اور الجھن پیدا کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی سینئر رہنما اور پنجاب کی سابق وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات کے سلسلے میں زیرِ حراست ہیں۔
خاندان اور جیل حکام نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی وفات کی افواہوں کی تردید کر دی

