Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      بالی: شرارتی بندربرطانوی سیاح کا موبائل فون چھین کر فرار، سیلفیاں اتارتارہا، فون کیسے بازیاب ہوا؟

      ’’ہنڈائی الینٹرا ‘‘کی نئی 8th جنریشن ماڈل لانچ: جدید ڈیزائن، کشادہ کیبن اور نئے فیچرز کے ساتھ زبردست انٹری

      سام سنگ کی نئی حکمت عملی: ’گلیکسی ایس 27 پرو‘ میں بڑی خصوصیات متعارف کرادیں

      پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ائیر انڈیا کا پائلٹ معطل

      گوگل کا نیا سمارٹ اسپیکر میدان میں: جیمنائی (Gemini) کی طاقت اور جدید ڈیزائن کے ساتھ پیشکش

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب حکومت نے متنازع ترین’’ کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026‘ واپس لے لیا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور:پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیور بل کو صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے فوری واپس لے لیا۔بل کی متنازعہ شقوں میں ردوبدل کرکے اگست میں دوبارہ بل پیش کیا جائے گا۔
    پنجاب اسمبلی میں 8 جون 2026 کو قانون و پارلیمانی امور کے پارلیمانی سیکرٹری خالد محمود رانجھا نے ایک بل پیش کیا جو اب سپیکر پنجاب اسمبلی کی ’لاعلمی‘ کے باعث متنازعہ ہو چکا ہے۔
    مجوزہ بل کا مقصد صوبے میں عادی مجرموں اور ایسی ’اینٹی سوشل سرگرمیوں‘ کا تدارک کرنا ہے جو ریاست کی رٹ کو متاثر کرتی ہیں یا عوامی اذیت کا باعث بنتی ہیں اور معاشرے کو جرائم کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔
    اس مجوزہ بل کو ’پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026‘کا نام دیا گیا ہے۔
    اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اتوار کے روز اسمبلی اجلاس میں مجوزہ بل پر شدید ردِعمل ظاہر کیا جس کے بعد سپیکر نے اس متنازعہ بل کی منظوری کا عمل روک دیا۔
    انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تو انہیں کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ سپیکر نے بل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس قانون سازی کا کوئی علم نہیں تھا اور سوال کیا کہ یہ بل سٹینڈنگ کمیٹی تک ان کی اطلاع کے بغیر کیسے پہنچا؟
    انہوں نے اجلاس کے دوران اسمبلی سیکرٹریٹ کے عملے کی سرزنش کی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی۔
    یاد رہے کہ بل پیش کرنے کے دوران اجلاس کی صدارت سپیکر کی بجائے پینل آف چیئر کے رُکن افتخار احمد چھچھڑ کر رہے تھے۔
    متنازعہ بل میں کیا ہے؟
    اس مجوزہ بل کے تحت تین سطحوں پر انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جس میں صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی کمیٹیاں شامل ہوں گی۔
    صوبائی اور ضلعی انٹیلی جنس کمیٹیاں وہی ہوں گی جو پنجاب ہائی سکیورٹی زونز (اسٹیبلشمنٹ) ایکٹ 2026 کے تحت پہلے سے موجود ہیں اور یہ نئے قانون کے تحت بھی اپنے فرائض انجام دیں گی۔
    ڈویژنل سطح پر نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے کنوینر ڈویژنل کمشنر ہوں گے جبکہ ریجنل پولیس افسر(آر پی او) یا کیپیٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او)، سپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ریجنل افسر، وفاقی انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے اور متعلقہ ضلع کے ایڈیشنل کمشنر (کوآرڈینیشن) اس کے رکن ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں کم از کم ماہانہ ایک اجلاس منعقد کریں گی اور ان کے اجلاس کی تفصیلات خفیہ تصور ہوں گی۔
    انٹیلی جنس کمیٹیوں کے مجوزہ فرائض
    بل کی شق نمبر 5 کے تحت انٹیلی جنس کمیٹیوں کو وسیع نوعیت کے فرائض تفویض کیے گئے ہیں۔ ان میں دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لینا اور حکمت عملی بنانا، غیر ملکیوں کی حفاظت، مذہبی و سماجی نوعیت کی تقریبات کی نگرانی، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اور عبادت گاہوں، فلاحی اداروں اور نجی تنظیموں کا اندراج اور ریکارڈ رکھنا شامل ہے۔
    اس کے ساتھ کمیٹیوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی نگرانی اور کرائے داروں و مہمانوں پر نظر رکھنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے اور وہ ضلعی پولیس سربراہ کو کسی شخص کو ’عادی مجرم‘ قرار دینے کے لیے کارروائی کی ہدایت کر سکتی ہیں۔
    اینٹی سوشل بیہیویئر
    مجوزہ بل کی شق نمبر 6 میں ’اینٹی سوشل بیہیویئر‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے جس میں شراب و قمار خانے چلانا، جھوٹی گواہی یا جعلی دستاویزات کے ذریعے روزی کمانا، عوامی مقامات پر فحش یا توہین آمیز زبان کا استعمال، خواتین، لڑکیوں یا 18 سال سے کم عمر افراد کو ہراساں کرنا، عوامی مقامات پر فحش حرکات، دھمکیوں، سوشل میڈیا یا تحریری ذرائع سے خوف و ہراس پھیلانا یا جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا، پولیس یا مسلح افواج کی طرز پر گاڑیوں پر لائٹس یا گارڈز کے ساتھ سرکاری اہلکار کا روپ دھارنا، چوری شدہ مال کی خرید و فروخت، اسلحے یا چاقو کی نمائش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شائع کرنا، ہوائی فائرنگ، جعل سازی، دھوکہ دہی یا بلیک مارکیٹنگ، جعلی کرنسی کا استعمال، الیکٹرانک یا پرنٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی معلومات پھیلانا جو کسی شخص کے علم میں غلط اطلاعات یا غلط معلومات پر مبنی ہوں، منظم جرائم پیشہ گروہوں یا سائبر کرائمز، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ یا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز یا تشدد پر اُکسانے والے مواد کی نمائش، جانوروں سے بدسلوکی، اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے والی رکاوٹیں نصب کرنا شامل ہیں۔
    اس کے علاوہ بل میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی اپنی صوابدید پر کسی بھی سرگرمی کو ’اینٹی سوشل‘ قرار دے سکتی ہے۔
    شناختی کارڈ بلاک کرنا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹانا
    بل کی شق نمبر 7 کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی پولیس افسر، اسسٹنٹ کمشنر یا کسی شہری کی تحریری شکایت پر انکوائری شروع کر سکتی ہے اور ملزم کو شنوائی کا موقع دینے کے بعد متعدد اقدامات میں سے کوئی بھی نافذ کر سکتی ہے۔
    ان اقدامات میں 6 ماہ تک کے لیے ضمانتی بانڈ کا مطالبہ، متعلقہ شخص کا نام صوبائی نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں ڈالنے کی سفارش کرنا، پاسپورٹ ضبط یا بلاک کرنا، شناختی کارڈ بلاک کرنے، سائبر سپیس سے اکاؤنٹ ہٹانے اور اس مقصد کے لیے موبائل فون، لیپ ٹاپ جیسے آلات ضبط کرنے اور ان سے حاصل شدہ معلومات مستقبل میں فرد جرم کے لیے استعمال کرنے، اسلحہ لائسنس منسوخ اور ضبط کرنے، منقولہ جائیداد کی ضبطی یا غیر منقولہ جائیداد پر اٹیچمنٹ، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور جدید ٹیکنالوجی یا الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائسز کے ذریعے فرد کو نگرانی میں رکھنے کی سفارشات شامل ہیں۔
    بل کے مطابق ایسا کوئی بھی حکم تین ماہ کے لیے نافذ رہے گا تاہم کمیٹی اسے توسیع دے سکتی ہے۔
    اس مجوزہ بل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات کسی عدالتی فرد جرم یا باقاعدہ مقدمے کے فیصلے سے قبل محض ضلعی انتظامی کمیٹی کی سفارش پر کیے جا سکتے ہیں تاہم جائیداد کی ضبطی کے لیے مجسٹریٹ کی منظوری ضروری ہے جبکہ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور موبائل ڈیٹا سے متعلق اقدامات کے لیے بل میں عدالتی منظوری کی شرط شامل نہیں۔
    عادی مجرم کون؟
    بل کی شق نمبر 9 کے تحت کسی شخص کو عادی مجرم اس وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب اس کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو کر تفتیشی رپورٹ جمع ہو چکی ہو یا وہ شیڈول میں درج جرائم میں ایک سے زائد بار گرفتار ہوا ہو یا قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر بار بار اینٹی سوشل یا منظم جرائم میں ملوث پایا گیا ہو۔
    یوں پولیس افسر کی درخواست پر مجسٹریٹ سماعت کے بعد اس شخص کو عادی مجرم قرار دے گا اور کم از کم تین ماہ کے لیے اس کے جسم پر الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس نصب کرنے کا حکم دے گا۔
    اس ڈیوائس کی شرائط کی خلاف ورزی پر تین ماہ سے تین سال تک قید جبکہ ڈیوائس کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے پر ایک سے تین سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
    مجوزہ بل میں بتایا گیا ہے کہ ہر ضلع کی پولیس عادی مجرموں کا مقامی ڈیٹا بیس رکھے گی جبکہ صوبائی سطح پر ’پنجاب ہیبچوئل آفینڈرز رجسٹری‘ کے نام سے مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا۔
    بل کی شق نمبر 10 کے تحت عادی مجرم کی تصویر، فنگر پرنٹس، دستخط کے نمونے اور بائیومیٹرکس کے علاوہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کے حکم پر اس کا ڈی این اے بھی پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
    اپیل کا حق
    مجوزہ بل میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ عادی مجرم قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف متاثرہ شخص 30 دن کے اندر سیشن کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ تاہم انٹیلی جنس کمیٹیوں کے دیگر احکامات کے خلاف اپیل کا راستہ مختلف اور بنیادی طور پر انتظامی نوعیت کا رکھا گیا ہے۔
    شق 12 کے مطابق ضلعی کمیٹی کے حکم کے خلاف اپیل ڈویژنل انٹیلی جنس کمیٹی، ڈویژنل کمیٹی کے حکم کے خلاف اپیل صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی اور صوبائی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل حکومت کے نامزد کردہ تین افسروں پر مشتمل اپیلیٹ کمیٹی کے پاس کی جائے گی۔
    اپیلیٹ کمیٹی کے فیصلے کے خلاف ایک ٹریبیونل میں بھی اپیل کی جا سکے گی جو حکومت کے نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم ہوگا اور جس کی سربراہی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرے گا جبکہ اس کے دو ارکان گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے ریٹائر سرکاری افسر ہوں گے۔
    جرمانے اور سزا
    مجوزہ بل کی شق نمبر 11 کے تحت انٹیلی جنس کمیٹی کے کسی حکم کی خلاف ورزی پر ایک سے چار سال قید اور 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ دوسری بار خلاف ورزی پر کم از کم تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ جبکہ تیسری بار خلاف ورزی پر چار سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
    بل کے شیڈول میں ان جرائم کی فہرست دی گئی ہے جن کی بنیاد پر کسی شخص کو عادی مجرم قرار دیا جا سکتا ہے جن میں گاڑی چوری، بھتہ خوری، ڈکیتی، ڈکیتی کے دوران قتل یا شدید زخمی کرنا، منشیات کے تمام جرائم (کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 اور پنجاب کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 2025 کے تحت) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد شامل ہیں۔
    مجوزہ بل کا مقصد
    محکمۂ داخلہ نے مجوزہ بل کے مقاصد و وجوہات میں واضح کیا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد عادی مجرموں اور اینٹی سوشل سرگرمیوں کے انسداد کے لیے طریقہ کار وضع کرنا، ضمانتی بانڈ کا نظام، اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے اس کی جانچ، الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعے عادی مجرموں کی نگرانی، احکامات کی خلاف ورزی پر سزا، اور متاثرہ افراد کو نمائندگی اور اپیل کا حق دینا ہے۔
    اپوزیشن کی جانب سے احتجاج
    اس مجوزہ بل پر عملدرآمد سپیکر پنجاب اسمبلی کی لاعلمی کے باعث روک دیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعت کی جانب سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔
    اتوار کے روز اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے بل کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف اور آئندہ نسلوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ صرف عدالتیں ہی کسی شخص پر پابندیاں عائد کر سکتی ہیں۔
    اس دوران سپیکر نے طریقۂ کار پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کے دستخط کے بغیر کوئی بل کسی کمیٹی کو نہیں بھیجا جا سکتا اور نوآبادیاتی دور کے قانون کی بحالی کو ناقابل قبول قرار دیا۔
    دوسری جانب آج اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد خان نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط بھی لکھا۔ خط میں بل کی منظوری کو ایوان سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
    پنجاب حکومت کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن علی حیدر گیلانی نے بھی بل پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل انسانی حقوق سے متصادم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ‘وہ اس بل کی حمایت نہیں کرسکتے. اگر حکومت نے ہیبیچوئل آفینڈرز بل کو زبردستی منظور کروانے کی کوشش کی تو پھر اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ بل بنایا کس نے ہے، یعنی کوئی بھی اگر احتجاج کرے گا تو پھر بل کے مطابق وہ ہیبیچوئل آفینڈرز قانون کی زد میں آ جائے گا۔‘

    Related Posts

    بارشیں کب کب برسیں گی! گرمی کے ستائے عوام کو محکمہ موسمیات نے خوشخبری سنا دی

    شادی میں ملنے والے زیورات صرف دلہن کی ملکیت ، سسرال یا شوہر کا کوئی حق نہیں ، سپریم کورٹ

    تہران کی سرکاری دعوت کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں مودی شرکت نہیں کرینگے: کم تر سطح کا وفد جائے گا

    مقبول خبریں

    بارشیں کب کب برسیں گی! گرمی کے ستائے عوام کو محکمہ موسمیات نے خوشخبری سنا دی

    بھارت نے ہرصورت حریت پسند رہنما یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی ٹھان لی، 35 برس پرانے نرس قتل کیس میں چارج شیٹ فائل

    شادی میں ملنے والے زیورات صرف دلہن کی ملکیت ، سسرال یا شوہر کا کوئی حق نہیں ، سپریم کورٹ

    تہران کی سرکاری دعوت کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں مودی شرکت نہیں کرینگے: کم تر سطح کا وفد جائے گا

    ’’پی آئی اے آج سے سرکاری ائیر لائن نہیں رہی ‘‘ کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن کو مل گیا

    بلاگ

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل کون کھیلے گا؟اربوں ڈالر کے سٹے کی منڈیاں کیا پیش گوئی کر رہی ہیں؟

    معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی، چوری اور بڑھتے جرائم — آخر کب تک؟

    غازی کی سرحدی پوسٹ پر تعیناتی اور تھانیدار کی ویڈیو، نظام کے دو چہرے

    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو، ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

    گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دیجئے!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.