کراکس: وینزویلا میں بدھ کی رات آنے والے دو پے در پے شدید زلزلوں کے بعد جمعہ کا دن بھی شدید غم اور بے یقینی کی کیفیت میں گزرا۔ مقامی انتظامیہ اور عالمی اداروں کے مطابق سانحے میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 920 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 51 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
تباہی کا منظر اور شہریوں کی بے بسی
سب سے زیادہ تباہی دارالحکومت کراکس کے قریب ساحلی شہر ‘لا گوائر’ میں ہوئی، جہاں بلند و بالا عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئیں۔ زلزلے کے تقریباً دو دن بعد بھی متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری امدادی ٹیموں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لیے خالی ہاتھوں اور معمولی اوزاروں سے ملبہ ہٹانے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ خاندانوں میں اپنے پیاروں کی زندگی کے حوالے سے امیدیں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دم توڑ رہی ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری نے وینزویلا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں تیزی لا دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 17 ممالک کی ریسکیو ٹیمیں بشمول میکسیکو، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، کولمبیا اور اسپین کے ماہرین زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور جدید آلات، ہیوی مشینری اور کھوجی کتوں کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ماہرین ارضیات کے مطابق یہ وینزویلا کی تاریخ کے گزشتہ سو برسوں میں آنے والے سب سے طاقتور زلزلے تھے، جن کی شدت بالترتیب 7.2 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والے ان دو زلزلوں (جنہیں ماہرین ‘ڈبلٹ’ قرار دے رہے ہیں) نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کا تخمینہ ہے کہ اس آفت سے تقریباً 67 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور عالمی امداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ریسکیو مشن کو ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں میں حکومتی اقدامات کی سست روی پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ابتدائی 72 گھنٹے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے فیصلہ کن ہوتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
وینزویلا میں دہائیوں کا بدترین زلزلہ: ہلاکتیں 920، پچاس ہزار سے زائد افراد لاپتہ

