واشنگٹن: امریکانے سوڈان میں جاری تباہ کن خانہ جنگی کو بھڑکانے کے الزام میں ایک بھارتی شہری اور اس کی کمپنی سمیت آٹھ افراد اور اداروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے یہ بڑی کارروائی کی ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ان افراد نے سوڈانی فوج اور جنگجوؤں کو ہتھیار، گولہ بارود اور غیر ملکی جنگجو فراہم کیے، جس سے وہاں کے بحران میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔
بھارتی کمپنی اور اہلکاروں پر الزامات
اس کارروائی کے تحت امریکانے دھماکہ خیز مواد بنانے والی ایک ہندوستانی کمپنی اور اس کے سی ای او کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق اس کمپنی نے ایک سوڈانی کمپنی کو بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود فراہم کیا۔ الزامات کے مطابق یہ مواد سوڈانی فوج نے خانہ جنگی میں استعمال کیا۔
اسی کے ساتھ دوسرے ممالک کی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں۔ امریکانے سوڈان اور مصر کی ان کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی ہے جو جنگ میں مختلف دھڑوں کی مدد کر رہی ہیں۔
دیگر کمپنیوں کے ساتھ سوڈانی انجینئرنگ کمپنی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کمپنی پر جنگ کے دوران مختلف ممالک سے فوجی یونیفارم اور دیگر ضروری آلات درآمد کرنے کا الزام ہے۔
امریکانے ایک بین الاقوامی بھرتی نیٹ ورک سے وابستہ اہلکاروں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ الزام ہے کہ یہ نیٹ ورک کولمبیا جیسے ممالک کے سابق فوجیوں کو سوڈان کی نیم فوجی دستوں کے لیے لڑنے کے لیے رشوت دیتا ہوا پایا گیا۔
سوڈان میں خانہ جنگی کا الزام، امریکا نے بھارتی کمپنی سمیت 8 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں

