برگن سٹاک :وزیراعظم محمدشہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی برگن اسٹاک میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meeting with Vice President of the United States J.D. Vance on the sidelines of US-Iran technical level talks as a follow -up of Islamabad MoU, being held in Burgenstock, Switzerland, 21 June 2026.#PakistanForPeace pic.twitter.com/vqHHvFhXVR
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 21, 2026
امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ملاقات میں موجود تھے۔امریکی وفدکے ارکان نےوزیراعظم محمدشہبازشریف اورفیلڈمارشل سیدعاصم منیرسےگرمجوشی سے مصافحہ کیا اورگلے بھی ملے۔
اس موقع پرفریقین کے درمیان خوشگوارماحول میں بات چیت ہوئی اورمسکراہٹوں کاتبادلہ بھی ہوا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مذاکراتی عمل کے آغاز سے قبل گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی مدبرانہ قیادت کی وجہ سے مذاکرات ممکن ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے جنھوں نے اس کے لیے انتھک محنت کی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ جب ہم واپس جائیں تو ہمارے پاس ایک معاہدے کی زبردست دستاویز ہو۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بار پھر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ اس سارے معاملے میں ان دونوں شخصیات کا کردار بہت شاندار رہا ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and Field Marshal Syed Asim Munir #COAS & CDF of #Pakistan meet the Iranian delegation led by Mohammad Bagher Ghalibaf and Foreign Minister Abbas Araghchi at US-Iran of Islamabad MoU being held in Burgenstock, #Switzerland#US #Iran #ISPR pic.twitter.com/hHR5whcSHD
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) June 21, 2026
قبل ازیں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی وفد سے بھی ملاقات کی ہے۔اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سےملاقات میں امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت کا مقصد صرف جنگ بندی نہیں بلکہ خطے میں ایک ایسے مستقل امن کا قیام ہے جس سے معاشی استحکام آ سکے۔عسکری قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی کے خلاف ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کے خواہاں ہے۔
Qatar Announces Launch of Lake Lucerne Summit, First High-Level Committee Meeting with Participation of US, Iran, Pakistan
Doha | June 21, 2026
The State of Qatar announces, in its capacity as a mediator, the launch of the Lake Lucerne Summit and the first meeting of a… pic.twitter.com/Dy99n6Owi1
— Ministry of Foreign Affairs – Qatar (@MofaQatar_EN) June 21, 2026
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن سٹاخ میں شروع ہو گئے ہیں۔قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کی اعلی سطح کی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر یہ اُمید کرتا ہے کہ اس مذاکراتی عمل کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے تمام نکات پر جامع اور مستقل معاہدہ طے پا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خصوصی تکنیکی ماہرین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جو مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر بات چیت کریں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کے لیے فالو اپ گروپ بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے تمام عمل کی نگرانی کریں گے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اور پاکستانی ثالث دونوں فریقوں کو مذاکرات کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے۔ کیونکہ بات چیت اور سفارتکاری ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔

