واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے ماضی کے روابط پر بالآخر خاموشی توڑ دی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سامنے ایک بند کمرے میں ہونے والی تفصیلی پیشی میں گیٹس نے ان تمام الزامات اور چہ مگوئیوں کا جواب دیا جو برسوں سے ان کا پیچھا کر رہے تھے۔
’ایپسٹین کے ساتھ ملاقات زندگی کی بڑی غلطی تھی‘
کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل اپنے ابتدائی بیان میں بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ جیفری ایپسٹین سے ملاقات کرنا ان کی "سنگین ترین غلطی” تھی۔ گیٹس نے واضح کیا کہ انہوں نے ایپسٹین کو صرف فلاحی منصوبوں کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا تھا، مگر انہیں اس کے مجرمانہ نیٹ ورک یا اخلاقی گراوٹ کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، "میں نے کبھی اس کے جزیرے یا اس کی نجی رہائش گاہوں کا دورہ نہیں کیا۔ جب مجھے احساس ہوا کہ وہ اپنے وعدوں کے برعکس کردار کا مالک ہے، تو میں نے دسمبر 2014 میں تمام تر تعلقات منقطع کر لیے تھے۔”
اس پیشی کا سب سے سنسنی خیز پہلو بل گیٹس کا وہ اعتراف تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ ایپسٹین انہیں دباؤ میں لانے کے لیے کس حد تک گر سکتا تھا۔ گیٹس کے مطابق، ایپسٹین ان کی نجی زندگی اور ازدواجی تعلقات سے باہر کے معاملات پر معلومات جمع کر کے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا رہا تاکہ وہ دوبارہ اس سے رابطہ قائم کریں۔ "اس نے میری ذاتی زندگی سے متعلق معلومات اور جھوٹ کو ملا کر ایک ہتھیار بنایا، مگر میں نے اس کے سامنے سر نہیں جھکایا،” گیٹس نے مؤقف اختیار کیا۔
یہ پیشی امریکی ایوانِ نمائندگان کی ‘اوور سائیٹ کمیٹی’ کے اس وسیع تر مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جیفری ایپسٹین جیسے بااثر مجرم نے دہائیوں تک امریکی اشرافیہ میں کیسے رسائی حاصل کیے رکھی اور کیا کسی طاقتور شخصیت نے اسے احتساب سے بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔
کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے بل گیٹس کے رضاکارانہ طور پر پیش ہونے کو سراہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ہے اور اب تک اس کیس میں سابق صدر بل کلنٹن، ہلیری کلنٹن اور کئی بڑے کاروباری ناموں کے بارے میں بھی سوالات اٹھ چکے ہیں۔
اگرچہ جنوری میں لاکھوں کی تعداد میں ‘ایپسٹین فائلز’ جاری کی گئی تھیں، مگر ناقدین اور متاثرین کا ماننا ہے کہ بہت کچھ ابھی بھی پردوں کے پیچھے ہے۔ ایپسٹین کا 2008 کا متنازع ‘پلی بارگین’ معاہدہ ہو یا 2019 میں جیل میں پراسرار موت، یہ کیس امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک بن چکا ہے۔
اب جبکہ تحقیقات کا رخ ٹرمپ انتظامیہ اور ماضی کی حکومتوں کی جانب بھی مڑ رہا ہے، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کانگریس کی کمیٹی صرف بل گیٹس تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ ان تمام طاقتور حلقوں کو بے نقاب کر سکتی ہے جو جیفری ایپسٹین کے تاریک نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

