ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان جمعرات کی شب تین روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچے تھے۔ جمعہ کو انہوں نے خلیل الرحمٰن کے ہمراہ روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا بھی دورہ کیا۔
ڈھاکہ: ترکیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں مزید گہرائی آ رہی ہے۔ ڈھاکہ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جماعتِ اسلامی کے لیڈران سے بھی ملاقات کی۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی قیادت والی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد کچھ عرصے تک محمد یونس کی حکومت اقتدار میں رہی۔ حالانکہ، رواں سال فروری میں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی حکومت دوبارہ اقتدار میں آ گئی۔ بی این پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ملک کا جھکاؤ ترکیہ اور پاکستان جیسے ممالک کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے پر مبارکباد
جمعہ کے روز نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ایک وفد نے بھی ڈھاکہ میں ہاکان فیدان سے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت پارٹی کے کنوینر ناہد اسلام کر رہے تھے۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا، ’’وزیر خارجہ فیدان نے این سی پی کی قیادت کو جولائی انقلاب میں ان کے اہم کردار پر مبارکباد دی، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔‘‘
جماعتِ اسلامی کے لیڈران کے ساتھ تبادلۂ خیال
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن کی قیادت میں چھ رکنی وفد سے بھی ملاقات کی۔ جماعتِ اسلامی نے ایکس پر ملاقات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گفتگو باہمی مفاد کے مختلف امور پر مرکوز رہی، جن میں صنعت، تجارت، تعلیم، صحت کی سہولیات اور دفاعی شعبے میں تعاون کا فروغ شامل تھا۔

