تحریر رحمت اللہ بلوچ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
افسوس! آج وہ بلوچستان، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جس کی زمین گیس، تیل، معدنیات، سونا، چاندی، تانبا، کوئلہ اور بے شمار نعمتوں سے بھری ہوئی ہے، بلوچستان آج بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہے۔ جس سرزمین کے خزانوں سے پورا ملک فائدہ اٹھاتا ہے، آج اسی سرزمین کے عوام پیٹرول کے ایک قطرے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں، دھکے کھا رہے ہیں اور آپس میں لڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔بلوچستان وہ صوبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔
یہاں گیس کے ذخائر ہیں، معدنیات کے خزانے ہیں، ساحل ہیں، پہاڑ ہیں اور بے پناہ ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج بلوچستان کے عوام غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر ہر باشعور انسان کو سوچنا چاہیے۔ہمارا مال، ہماری معدنیات، ہمارے وسائل اور ہماری زمین کے خزانے مختلف معاہدوں کے ذریعے استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن بلوچستان کے عام شہری آج بھی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں۔ عوام سڑکوں پر ہیں، پٹرول پمپوں پر ہجوم ہے، لوگ گھنٹوں انتظار کر رہےرہتے ہیں۔حکمرانوں سے اپیل ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کئے جائیں۔

