واشنگٹن ڈی سی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران جوہری ہتھیار ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔
ٹرمپ نے اعادہ کیا کہ امریکا ایران پر عسکری طور پر یا کسی معاہدے کے ذریعے فتح حاصل کرے گا، جس کا اہم نکتہ آبنائے ہرمز کا فوری طور پر کھلنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کے خواہش مند نہیں ہیں، لیکن اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو ملاقات ممکن ہے اور اس صورت میں وہ احترام کا مظاہرہ کریں گے۔
لبنان کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے اور لبنان امن کا مستحق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے اور وہ اس سلسلے میں حزب اللہ سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔
Trump looks genuinely EXHAUSTED.
Working around the clock to end a war takes a toll on anyone, even him.
Peace can't come soon enough…pic.twitter.com/GukFHU4NVv https://t.co/hfEotdZBi2
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) June 4, 2026
دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے اہم ملاقات ہوئی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی ایس سی او کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی بھی اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک میں موجود ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات میں کشیدگی میں کمی اور داخلی سلامتی کے امور پر گفتگو کی گئی
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تو وہ جنگ بندی کے خاتمے پر غور کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ فائرنگ کے تبادلے کو دفاعی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ وسیع تر جنگ کی واپسی نہیں۔
ٹرمپ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خطرات کا خاتمہ ہے۔ امریکی انتظامیہ نے پاکستانی ثالثی کے ذریعے 60 روزہ مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی مسودہ تیار کیا تھا، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا کیونکہ ایران نے شروع میں رعایتیں دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ جوہری پروگرام پر بات چیت سے پہلے اپنے منجمد اثاثوں کی رہائی چاہتا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط سے پہلے اثاثے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں منجمد اثاثوں کو ایک خصوصی فنڈ میں منتقل کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔

