اسلام آباد: پاکستان کے پولیس نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اب سے ملک بھر کے تھانوں میں کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے بایومیٹرک ویریفیکیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے، جس کے بعد بغیر انگوٹھے کے نشان کی تصدیق کے نہ تو کوئی مقدمہ درج ہوگا اور نہ ہی کسی ملزم یا گواہ کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے گا۔
پولیس حکام کے مطابق اس نئے ڈیجیٹل نظام کا بنیادی مقصد پولیس گردی اور جعلی ایف آئی آر کے کلچر کا خاتمہ ہے۔ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر فرضی ناموں اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے مقدمات درج کرواتے تھے، لیکن اب بائیومیٹرک سسٹم کی وجہ سے ہر شخص کی شناخت براہ راست نادرا (NADRA) کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگی۔
- مدعی کی شناخت: بغیر بائیومیٹرک تصدیق کے کوئی بھی شہری مقدمہ درج نہیں کروا سکے گا۔
- ملزمان اور گواہان: کسی بھی ملزم یا گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے انگوٹھے کی تصدیق لازمی ہوگی۔
- مکمل شفافیت: ہر اینٹری ڈیجیٹل اور ٹریس ایبل ہوگی، جس سے ریکارڈ میں ردوبدل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
7 روزہ ڈیڈ لائن: افسران کو سخت احکامات جاری
اعلیٰ پولیس حکام نے تمام ضلعی پولیس افسران کو اس سسٹم کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس حوالے سے ایک سخت ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے:
"ملک بھر کے تمام تھانوں میں آئندہ 7 دنوں کے اندر اس بائیومیٹرک نظام کو مکمل طور پر فعال کرنا لازمی ہوگا۔ تمام متعلقہ افسران پابند ہوں گے کہ وہ 7 روز کے اندر اپنے متعلقہ تھانوں سے اس سسٹم کے نفاذ کی رپورٹ ہیڈکوارٹرز میں جمع کروائیں۔”
اس اقدام کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے تھانہ کلچر میں بہتری آئے گی اور عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی مزید محفوظ اور شفاف ہو جائے گی۔

