مورو(رپورٹ محمد اسلم مغل)
مورو پولیس نے گرفتار نوجوان کو جعلی مقابلہ میں قتل کر دیا، ورثاء کا احتجاج ۔پولیس کے مطابق تین افراد جرائم کی نیت سے کھڑے تھے۔ گشت کے دوران پولیس کو دیکھ کر انہوں نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں مذکورہ نوجوان مارا گیا اور اس کے 2 ساتھی فرار ہو گئے۔ شناخت جانی عرف دانش وسطڑو، رہائشی گاؤں مچر، نزد نوشہرو فیروز کے طور پر ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پر دادو اور نوشہرو فیروز اضلاع میں مختلف جرائم کے 39 مقدمات درج تھے اور وہ روپوش تھا۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ مختلف تھانوں کی پولیس نے اسے مچر کے قریب گاؤں میر محمد تگر کے ایک گھر سے گرفتار کیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور نوجوان صفر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جسے ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس وقت ورثاء نے پولیس کے خلاف اور اس کی رہائی کے لیے احتجاج بھی کیا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے بعد مورو پولیس کے حوالے کیا جس نے اسے قتل کر کے مقابلہ ظاہر کر دی اس کے والدین، ماں اور والد، لاش لینے کے لیے مورو اسپتال پہنچے۔ روتے ہوئے کہا: ہماری پولیس نے ہمارے بیٹے کو گھر سے زندہ گرفتار کر کے قتل کر کے بڑا مجرم ظاہر کیا ہے۔ اگر ہمارا بیٹا مجرم تھا تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا۔ اسے بے گناہ کیوں قتل کیا گیا؟انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی پولیس سندھ سے مطالبہ کیا کہ ماورائے عدالت قتل کرنے والی مورو پولیس کے خلاف سخت کارروائی کر کے ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ورنہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

