تحریرڈاکٹرمحمددائود
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ابراہیمی معاہدے (Abraham Accords) دراصل کسی ایک معاہدے کا نام نہیں بلکہ ایسے سفارتی معاہدوں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جن کے تحت 2020ء میں اسرائیل اور متعدد عرب ممالک نے اپنے تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کیا۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین اس سلسلے میں پیش پیش رہے، جن کے بعد مراکش اور سوڈان بھی اس عمل کا حصہ بن گئے۔ ان معاہدوں کو "ابراہیمی معاہدے” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب حضرت ابراہیمؑ کو اپنی مشترکہ روحانی شخصیت اور جدِ امجد مانتے ہیں۔ ان معاہدوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بحث کو جنم دیا، کیونکہ پہلی مرتبہ متعدد عرب ممالک نے فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کا انتظار کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ ابراہیمی معاہدے صرف سفارتی دستاویزات نہیں بلکہ ایک ایسی جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کی علامت بن چکے ہیں جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کی خارجہ پالیسی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ شاید اپنی سب سے بڑی سفارتی اور جغرافیائی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ پرانے اتحاد ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں، نئی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں اور وہ نظریات جنہوں نے کئی دہائیوں تک خطے کی سیاست کی سمت متعین کی، اب قومی مفادات اور عملی سیاست کے تقاضوں کے سامنے اپنی سابقہ حیثیت کھوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ابراہیمی معاہدے اسی تبدیلی کی سب سے نمایاں مثال ہیں۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے ایک حصے میں ابھرتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی بھی کرتے ہیں جس میں قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کو روایتی سیاسی مؤقف پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد عرب اور مسلم دنیا کا عمومی مؤقف یہ رہا کہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے جب تک فلسطینی عوام کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست حاصل نہ ہو جائے۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عرب لیگ نے اپنے مشہور زمانہ "تین نہیں” کے اصول اپنائے: اسرائیل کے ساتھ نہ امن، نہ تسلیم اور نہ مذاکرات۔ کئی دہائیوں تک یہی اصول مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کی بنیاد رہے۔ اگرچہ مصر نے 1979ء اور اردن نے 1994ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے، لیکن انہیں عمومی رجحان کے بجائے مخصوص حالات کا نتیجہ سمجھا گیا۔ ابراہیمی معاہدوں نے اس روایت کو چیلنج کیا اور متعدد عرب ممالک نے فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کا انتظار کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کیا، جس نے خطے کی سیاسی ترجیحات میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی۔
اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما تھے۔ سب سے اہم عنصر خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال تھی۔ خلیجی ریاستوں نے ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج سمجھنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکیورٹی، میزائل دفاعی نظام اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں شراکت داری نے ان ممالک کے لیے نئی اہمیت اختیار کر لی۔ دوسری جانب معاشی عوامل بھی اس تبدیلی کے اہم محرکات میں شامل تھے۔ اسرائیل نے گزشتہ چند دہائیوں میں خود کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، زرعی جدت، آبی وسائل کے انتظام اور طبی تحقیق کے میدان میں ایک عالمی قوت کے طور پر منوایا ہے۔ اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی کوشش کرنے والی خلیجی ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون میں وسیع اقتصادی مواقع دیکھے۔ یوں قومی مفادات بتدریج روایتی نظریاتی مؤقف پر غالب آنے لگے۔
تاہم ابراہیمی معاہدوں کے باوجود فلسطینی مسئلہ آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا مرکزی نکتہ ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے فلسطینیوں کے حق میں موجود ایک اہم سفارتی دباؤ کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے باوجود فلسطینی ریاست کے قیام یا دو ریاستی حل کی جانب کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہوئی۔ دوسری جانب معاہدوں کے حامیوں کا استدلال ہے کہ کئی دہائیوں کی سفارتی تنہائی اور بائیکاٹ بھی اس تنازعے کا حل نہیں نکال سکے، اس لیے شاید روابط اور تعاون کے ذریعے زیادہ مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ لیکن اس بحث سے قطع نظر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ فلسطینی کاز آج بھی مسلم دنیا کا ایک نہایت حساس، جذباتی اور سیاسی طور پر اہم مسئلہ ہے۔ غزہ میں حالیہ جنگوں اور انسانی بحرانوں نے اس حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اسلام آباد نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس مؤقف کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جوڑ رکھا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک فلسطینیوں کو ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل ریاست نہیں مل جاتی۔ یہ پالیسی محض سفارتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ عوامی جذبات، اسلامی یکجہتی، بین الاقوامی قانون کی حمایت اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق سے وابستگی کی عکاس ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان ان چند بڑے مسلم ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اب تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے، اور اس معاملے پر ملک کے مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی طبقات میں غیر معمولی حد تک اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔
تاہم ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ جب مسلم دنیا کا ایک حصہ اپنی اسٹریٹجک ترجیحات تبدیل کر رہا ہے تو کیا پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکے گا؟ یہ صرف ایک سفارتی سوال نہیں بلکہ قومی مفادات، معاشی ضروریات اور جغرافیائی سیاسی حقائق سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات میں اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی زرعی تحقیق، آبی ٹیکنالوجی، صحت کے شعبے میں جدت، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے تجربات پاکستان کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، معاشی مشکلات اور تکنیکی مسابقت جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خارجہ پالیسی صرف اقتصادی مفادات کا نام نہیں۔ قومیں اپنے اصولوں، تاریخی وابستگیوں اور عوامی جذبات کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔ پاکستان میں فلسطینی کاز کی حمایت کو محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور نظریاتی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب حقیقی پیش رفت کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کسی بھی کوشش کو شدید عوامی اور سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان خود کو ہمیشہ عالمی سطح پر مظلوم مسلم اقوام کی آواز کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، اس لیے پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے اثرات اس کی سفارتی ساکھ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس پوری بحث میں سعودی عرب کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی، اقتصادی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر استوار ہیں۔ اگر مستقبل میں سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری مسلم دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ اگرچہ ریاض اب تک فلسطینی ریاست کے قیام کو معمول سازی کی بنیادی شرط قرار دیتا آیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس امکان پر مسلسل بحث جاری ہے۔ سعودی عرب کی کسی بھی بڑی پالیسی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان میں بھی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک نئی اور سنجیدہ بحث جنم لے سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ابراہیمی معاہدے صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا موضوع نہیں بلکہ وہ ایک وسیع تر عالمی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں، جس میں ریاستیں نظریاتی اختلافات کے مقابلے میں اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے تعاون کو زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں کسی ملک کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے تاریخی مؤقف پر نہیں بلکہ اس کی معاشی طاقت، تکنیکی صلاحیت اور قومی استحکام پر بھی ہے۔ پاکستان اس بدلتی ہوئی حقیقت سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اسے جذباتی نعروں اور وقتی سیاسی مباحث سے بالاتر ہو کر ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اصولوں اور قومی مفادات کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کر سکے۔
ابراہیمی معاہدوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ علاقائی صف بندیاں تبدیل ہو رہی ہیں اور کئی دہائیوں سے قائم سفارتی تصورات کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ یہ تبدیلیاں اہم ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اصولی مؤقف، قومی مفادات اور بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ فلسطینی کاز سے وابستگی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہی ہے، لیکن ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں صرف ماضی کے بیانیے مستقبل کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ان متضاد تقاضوں کے درمیان انتہائی دانشمندی اور توازن کے ساتھ راستہ نکالنا ہوگا۔ آج کیے جانے والے فیصلے نہ صرف پاکستان کی سفارتی سمت بلکہ عالمی سیاست میں اس کے کردار اور مقام کا بھی تعین کریں گے۔


