ریاض+لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے امکانات اور ممکنہ امن معاہدے کی خبروں نے عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پیر کے روز بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد تک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 7 مئی کے بعد تیل کی کم ترین قیمت ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
برینٹ کروڈ: اس کے فیوچرز 5.85 ڈالر (یعنی 5.7 فیصد) کی کمی کے بعد 97.69 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): امریکی ساختہ تیل کی قیمت میں 5.75 ڈالر (یعنی 6 فیصد) کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 90.85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اہم تزویراتی معاملات، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق پابندیوں پر بدستور اختلافات موجود ہیں، تاہم امن معاہدے کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے جس سے قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے۔
دوسری جانب، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے، تب بھی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو معمول پر لانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ وہاں موجود تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان ہے جس کی مرمت کا کام ابھی جاری ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ، امریکی توانائی کے شعبے میں بھی ایک اہم پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ مقامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی کمپنیوں نے مسلسل پانچویں ہفتے تیل اور گیس کے نئے رِگز (Rigs) نصب کیے ہیں۔
مجموعی رِگ کاؤنٹ میں 7 نئے رِگز کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ان کی کل تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ تعداد جون 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے، جبکہ یہ رجحان فروری 2025 کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ مسلسل پانچ ہفتوں تک رِگز میں اضافہ ہوا ہو۔
امریکہ-ایران ممکنہ امن معاہدے کی بازگشت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد تک بڑی گراوٹ

