بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں
Anti-Terrorist Force
کی جانب سے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر شیخ محمد ایوب کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق مذکورہ افسر پر الزام تھا کہ کراچی سے چوری ہونے والی گاڑی کو ژوب سے ٹریس کیے جانے کے بعد اس نے کراچی پولیس ٹیم سے رابطہ کر کے گاڑی واپس کرنے کے بدلے 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں AVLC کراچی کی جانب سے ایسے تصویری شواہد بھی فراہم کیے گئے جن میں اس کے مبینہ کار لفٹرز گل لالئی اور علی زمان کے ساتھ روابط ظاہر کیے گئے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی اس افسر سے منسوب رہے ہیں جس سے منظم گاڑی چوری گروہوں میں ملوث ہونے کے شواہد مضبوط ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عمل سنگین بدعنوانی، مجرمانہ ملی بھگت اور محکمانہ نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے جس سے نہ صرف پولیس فورس کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر مجاز اتھارٹی نے Efficiency & Discipline Rules 1975 کے تحت فوری طور پر انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
