اسلام آباد(رپورٹ:محمد حاشر)
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک بار پھر اہم سفارتی اور مصالحتی کردار سنبھال لیا ہے، جس کے تحت پاکستانی وزیرِ داخلہ نے تہران کا ہنگامی دورہ کر کے ایرانی صدر اور اعلیٰ عسکری قیادت کے سامنے ایک جامع "امن یادداشت” (Peace Memo) پیش کی ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے معاہدوں کی ممکنہ خلاف ورزی اور واشنگٹن کی جانب سے دوبارہ فضائی حملوں کے خطرات کے باعث صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے، جس کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد نے دونوں حریف ممالک کی مروجہ شرائط کو یکجا کر کے ایک 19 نکاتی ہائبرڈ فارمولا تیار کیا ہے۔ پاکستان کی اس نئی پیشکش میں ایران کو اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور مخصوص تجارتی پابندیوں میں نرمی جیسے بہتر اور پرکشش سفارتی فوائد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، بشرطیکہ تہران خطے میں اپنے حامی گروپوں کی عسکری سرگرمیوں کو روکنے کی ٹھوس ضمانت فراہم کرے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، ایران کے ساتھ طویل سرحد اور گہرے اقتصادی مفادات وابستہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کسی بھی نئی علاقائی جنگ کے اثرات سے بچنے کے لیے اس بیک چینل ڈپلومیسی میں غیر معمولی طور پر سرگرم ہے، اور اگر اسلام آباد کا یہ امن مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی قد میں بھی بے پناہ اضافہ کرے گا۔
خطے کو بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش واشنگٹن اور تہران کے مابین پاکستان کا مصالحتی کردار

