نوابشاہ (رپورٹ نفیس آرائیں)
اسلامی جمعیت طلبہ ضلع شہید بینظیر آباد (نوابشاہ) کے زیرِ اہتمام اسکولز کے طلبہ کے لیے جاری تعلیمی مہم "مصنوعی ذہانت بطور استاد، نہ کہ ٹائپسٹ ” کے سلسلے میں سکرنڈ کے دو معروف تعلیمی اداروں میں شاندار اور کامیاب ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔
ان دونوں اہم ورکشاپس کے دوران طلبہ کو جدید دور کی ٹیکنالوجی "آرٹیفیشل انٹیلیجنس” (AI) کے درست، مثبت اور تعلیمی استعمال سے متعلق گائیڈ لائنز فراہم کی گئیں۔ سیشنز کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ورکشاپ کنڈکٹر عدیل احمد نے طلبہ کو سلائیڈز اور پریزنٹیشن کے ذریعے ‘پراامپٹ انجینئرنگ’ کے گُر سکھائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ AI کو ہوم ورک نقل کرنے کے لیے محض ایک ‘ٹائپسٹ’ بنانے کے بجائے سائنس, ریاضی اور انگریزی جیسے اہم مضامین کے مشکل تصورات کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اپنا ‘ٹیوٹر’ (استاد) بنائیں۔ انہوں نے طلبہ کو مختلف ایپس کے ذمہ دارانہ استعمال کے طریقے بھی سکھائے سکرنڈ میں منعقدہ ورکشاپ میں مہمانِ خصوصی عمر طارق (ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ضلع نوابشاہ) تھے، کے سیشن میں محمد بلال کمبوہ** (ناظم اسلامی جمعیت طلبہ نوابشاہ ڈویژن) تھے۔
معزز مہمانانِ خصوصی نے اپنے خطابات میں اسلامی جمعیت طلبہ کی اس تعلیمی کاوش کو بے حد سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکرنڈ اور ضلع بھر کے اسکولوں کے طلبہ و طالبات کو اس عمر میں ڈیجیٹل اسکلز اور اخلاقی حدود سکھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے تعلیمی دیانت داری (Academic Integrity) برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں اور ایک مضبوط اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
تقریب کے اختتام کی جانب سے تعلیمی خدمات کے اعتراف میں معزز مہمانانِ اور اسکولز کے پرنسپلز کو کتب کے قیمتی تحائف پیش کیے گئے۔
اسکولوں کے سربراہان اور اساتذہ کرام نے اسلامی جمعیت طلبہ ضلع نوابشاہ کی مانیٹرنگ اور تنظیمی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔

