نواب شاہ (رپورٹ: نفیس آرائیں)
نواب شاہ شہر کی یونین کمیٹی نمبر 3، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے مضبوط ترین انتخابی قلعہ تصور کی جاتی رہی ہے، آج بھی بنیادی شہری سہولتوں سے محرومی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ہر انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروانے کے باوجود یو سی تھری کی عوام کو نہ پینے کا صاف پانی میسر آسکا اور نہ ہی سڑکوں اور گلیوں کی خستہ حالی دور کی جا سکی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یونین کمیٹی میں گزشتہ تقریباً بیس برس قبل تعمیر کی جانے والی گلیاں اور سڑکیں اب مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث شہری ایک کلومیٹر دور گجرواہ نہر پر نصب واٹر پمپس سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کے مطابق بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات، یو سی تھری کی عوام ہمیشہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں بھرپور حمایت کا اظہار کرتی آئی ہے، تاہم کامیابی کے بعد منتخب نمائندے حلقے کا رخ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ عوام نے شکوہ کیا کہ جب بھی کسی مسئلے کے حل کے لیے منتخب نمائندوں یا متعلقہ حکام سے رجوع کیا جاتا ہے تو صرف طفلِ تسلیاں دی جاتی ہیں اور یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ “بجٹ آنے پر کام کرایا جائے گا”۔
واضح رہے کہ حلقہ پی ایس 37 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری جاوید اقبال آرائیں نے عام انتخابات 2024 میں 70 ہزار 799 ووٹ حاصل کرکے کامیابی سمیٹی تھی، جبکہ ان کے مدمقابل میر عنایت علی رند 20 ہزار 300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کی نشست پر موجودہ صدرِ مملکت Asif Ali Zardari نے ایک لاکھ 47 ہزار 465 ووٹ حاصل کیے، جبکہ سردار شیر محمد رند بلوچ، جو آزاد حیثیت سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار تھے، 51 ہزار 925 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
نواب شاہ:دو دہائیوں سے مسلسل کامیابیاں دلانے والی یونین کمیٹی بنیادی سہولیات سے محروم، عوام کا اعلیٰ قیادت سے نوٹس لینے کا مطالبہ

