پشاور (انورزیب خان) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا میں شدید توانائی بحران اور طویل لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ اور سستی بجلی پیدا کرتا ہے مگر عوام اس سے محروم ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دیہی علاقوں میں 20 سے 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس نے عوام کی روزمرہ زندگی، زراعت اور چھوٹے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کا موجودہ مرکزیت پر مبنی نظام غیر منصفانہ اور ناکام ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ وسائل رکھنے کے باوجود خیبر پختونخوا کے عوام توانائی تک مساوی رسائی سے محروم ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں غربت اور معاشی بدحالی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف توانائی کے شعبے سے وابستہ ادارے بھاری منافع حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے مگر پاکستان اب بھی مہنگے اور غیر پائیدار ذرائع پر انحصار کر رہا ہے، اس لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر شمسی توانائی کے آلات پر سبسڈی دے، سولر پینلز اور بیٹریوں پر تمام ٹیکس اور ٹیرف ختم کرے اور مقامی سطح پر مائیکرو گرڈز اور آف گرڈ سولر سسٹمز کو فروغ دے تاکہ دیہی علاقوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے۔
پختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ اور سستی بجلی پیدا کرتا ہے مگر عوام اس سے محروم ہیں، میاں افتخار حسین

