کراچی: رپورٹ شیراز واریو
ٹریزری آفس ٹھٹھہ میں چیک پاس کرنے کے عوض مبینہ رشوت طلب کرنے کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سرکاری ٹھیکیداروں، سماجی شخصیات اور شہریوں نے شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت سرکاری. ٹھیکیدار لطیف جمال خُشک نے کی۔ مظاہرین نے “رشوت مافیا نامنظور”، “کرپشن مافیا نامنظور”، “کرپٹ افسران کو گرفتار کرو” اور “ٹھٹھہ ٹريزری میں کرپشن بند کرو” کے شدید نعرے لگائے۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ضلع ٹھٹھہ کے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر دھنی بخش، بہرام جٹ اور گل مری کی جانب سے سرکاری چیک پاس کرنے کے لیے ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے تک رشوت طلب کی جا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران مقررین نے دعویٰ کیا کہ بعض بااثر شخصیات کے نام استعمال کرکے بھی مبینہ طور پر رشوت طلب کی گئی۔ لطیف جمال خُشک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رشوت نہ دینے پر ان کے چیک پاس نہیں کیے گئے، جبکہ دیگر ٹھیکیداروں کے چیک بھی روکنے کی مبینہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیئرمین اینٹی کرپشن، چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور سندھ بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سامنے شدید نعرے بازی کی گئی اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا گیا۔

