کراچی: کراچی پولیس کےسربراہ آزاد خان نے منشیات کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کے خلاف جاری تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس گروہ کے تار بین الاقوامی سطح پر غیر ملکیوں اور لاہور میں مقیم سہولت کاروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تفتیش کا دائرہ کا ر وسیع کردیا گیا کیس میں افریقی باشندے اور لاہور کنکشن کا انکشاف ہوا ہے
سینٹرل پولیس آفس (CPO) میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (AIG) کراچی، آزاد خان نے بتایا کہ تفتیشی حکام نے ایسے شواہد جمع کر لیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد غیر ملکی باشندے پنکی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ پولیس کے مطابق، لاہور میں مقیم 6 سے 8 غیر ملکی افراد اور کچھ خواتین اس نیٹ ورک کو چلانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔حکام اس پہلو پر غور کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ محض مقامی منشیات فروشی کا نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی جرم (Transnational Organized Crime) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔_ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ پولیس نے ملزمہ پنکی کے مالیاتی لین دین کا سراغ بھی لگا لیا ہے۔اب تک ایک ایسا بینک اکاؤنٹ سامنے آیا ہے جس سے ہزاروں ٹرانزیکشنز کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 3 کروڑ روپے سے زائد ہے۔اس رقم میں سے 90 لاکھ روپے سے زائد ‘انا’ (Ana) نامی ایک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔
تفتیش میں پتہ چلا صرف سندھ میں 20 مقدمات ہیں، 6 مقدمات میں انمول عرف پنکی بری ہوچکی ہے ان کا کہنا تھا کہ پنکی نے 2018 سے کام شروع کیا تھا ۔ جب کراچی میں پولیس کے ریڈار پر آئی تو لاہور شفٹ ہوگئی اور وہاں سے آن لائن کام کرتی رہی۔آئی جی سندھ کے مطابق ایک سے ڈیڑھ سال پرانے ایک اکاؤنٹ میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، جبکہ لاہور کی ایک خاتون کے نام پر 90 لاکھ روپے سے زائد کی مالی لین دین کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کل رات ایک اور گھر پر چھاپے کے دوران مبینہ طور پر ک و ک ی ن بھی برآمد ہوئی ہے، اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
انمول عرف پنکی کو رواں ہفتے کراچی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کے مشترکہ چھاپے کے دوران ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمہ کے خلاف منشیات کی برآمدگی اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے دو الگ الگ مقدمات درج ہیں۔بدھ کے روز کراچی کی ایک عدالت نے پولیس کو ملزمہ سے مزید تفتیش کے لیے تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی پرانی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مار کر وہاں موجود منشیات ضبط کر لی گئی ہیں، جبکہ گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کا کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ منشیات کی اس سپلائی چین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔

