گزشتہ ماہ ارجنٹائن سے روانہ ہونے والے اس جہاز پر اب تک 3 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جن کا تعلق ہنٹا وائرس سے بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ہنٹا وائرس ایک نایاب لیکن خطرناک بیماری ہے جو عام طور پر متاثرہ چوہوں کے فضلے یا پیشاب سے پھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگر مسافروں کو بھی طبی امداد کے لیے پہلے ہی جہاز سے نکالا جا چکا ہے۔
ٹور آپریٹر ‘اوشین وائڈ ایکسپیڈیشنز’ کے مطابق، وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر جہاز کو ساحل سے محفوظ فاصلے پر لنگر انداز کیا گیا ہے۔ مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے لایا جا رہا ہے جن میں ایک وقت میں صرف 10 افراد کے سوار ہونے کی اجازت ہے۔
امریکہ، جرمنی، فرانس، بیلجیم، آئرلینڈ اور نیدر لینڈز نے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے خصوصی طیارے بھیجے ہیں۔
امریکی مسافر: 17 امریکی مسافروں کو نیبراسکا میڈیکل سینٹر منتقل کیا جائے گا، جہاں وہ 42 دن تک سخت طبی نگرانی (Quarantine) میں رہیں گے۔
ہسپانوی مسافر: اسپین سے تعلق رکھنے والے 14 مسافروں کو ملٹری اسپتال منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے پی سی آر (PCR) ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جس کروز جہاز پر ہنتا وائرس پھیلنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس میں سوار تمام افراد کو ’انتہائی خطرے والا رابطہ کار‘ (ہائی رسک کانٹیکٹ) سمجھا جانا چاہیے۔ اس لیے ان تمام لوگوں کی 42 دنوں تک مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔ ڈبلیو ایچ او میں وبائی امراض اور روک تھام کے شعبے کی ڈائریکٹر ماریا وان کرخوف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جہاز پر موجود ہر فرد کو ’ہائی رسک کانٹیکٹ‘ مانا جا رہا ہے۔
بحری جہاز کی آمد نے کینری آئی لینڈز میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ جزائر کے رہنما فرنینڈو کلاویجو نے جہاز کو یہاں لنگر انداز کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ تینریف کے پورٹ ورکرز نے بھی ممکنہ طبی خطرات اور معلومات کی کمی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ صورتحال تشویشناک ہے، لیکن عام عوام کے لیے اس وائرس کا خطرہ فی الحال کم ہے۔ مسافروں کے انخلاء کے بعد جہاز کو نیدر لینڈز کے شہر روٹرڈیم لے جایا جائے گا، جہاں عملہ اترے گا اور پورے جہاز کو کیمیائی طریقے سے ڈس انفیکٹ (Disinfect) کیا جائے گا۔

