Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      گاڑی مالکان متوجہ ہوں! ہنڈا اٹلس کا ہزاروں گاڑیاں واپس بلانے کا اعلان،

      الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موٹروے ٹول ٹیکس معاف! ٹیکس چھوٹ سمیت بڑے ‘سرپرائزز’

      ہرشہری کوگاڑی کا مالک بنانے کافیصلہ ، نئی آٹو پالیسی منظور

      طلبہ کی بڑی پریشانی حل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گھر بیٹھے ڈگریاں تصدیق کرانے کا طریق کار

      ”مہنگی بجلی بائے بائے“: ٹریٹ بیٹری لمیٹڈ نے ’لیتھیم نیو پاور‘ سیریز لانچ کر دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اوپیک کی سیاست، سعودی گرفت اور امارات کی بغاوت تیل کی عالمی جنگ کا نیا باب

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    عالمی توانائی کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ پر کھڑی ہے جہاں سعودی عرب کی دہائیوں پر محیط قیادت کو پہلی بار ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) سے اچانک اخراج نہ صرف خلیجی اتحاد میں دراڑ کا مظہر ہے بلکہ عالمی تیل کی منڈی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، جو اوپیک میں سخت اور مرکزی کنٹرول کے لیے مشہور ہیں، اس وقت اپنی قیادت کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ امارات، جو اوپیک کا ایک بڑا اور اہم رکن تھا، طویل عرصے سے اپنی پیداواری حد (quota) پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہا تھا اور اب اس نے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
    یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں گہرے سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہیں۔ امارات کی خواہش ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار کو اوپیک کی پابندیوں سے آزاد کر کے عالمی منڈی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک کی پالیسیاں ابوظہبی کے معاشی اہداف کے لیے رکاوٹ بن چکی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے برعکس امارات کی معیشت تیل پر مکمل انحصار نہیں رکھتی، جس سے اس کی پالیسی زیادہ لچکدار ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران جنگ کے باعث اسٹریٹ آف ہرمز بند ہے اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس بحران نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا بلکہ اوپیک کے اندر اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
    امارات کا اخراج درحقیقت سعودی عرب کے اس روایتی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا ہے جو وہ اوپیک کے ذریعے عالمی تیل کی قیمتوں پر قائم رکھتا آیا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اتفاقِ رائے کے ذریعے فیصلے کرواتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اس کا انداز زیادہ یکطرفہ ہو گیا، جس نے دیگر ارکان خصوصاً امارات کو ناراض کیا۔ مزید برآں، امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ یمن، سوڈان اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مختلف رہے ہیں۔ یہ اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور خلیجی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو امارات کا اوپیک چھوڑنا عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ چونکہ یہ ملک تیل کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مستقبل میں یہ آزادانہ پیداوار بڑھا کر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اوپیک کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرے گا اور ممکنہ طور پر ایک نئی “قیمتوں کی جنگ” کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ میری رائے میں یہ واقعہ صرف ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اوپیک، جو کبھی تیل کی عالمی سیاست کا محور تھا، اب اندرونی اختلافات اور جغرافیائی سیاست کے دباؤ میں اپنی گرفت کھوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر امارات کی طرح دیگر ممالک بھی خودمختاری کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اوپیک کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی “آہنی گرفت” اب پہلی بار حقیقی معنوں میں چیلنج ہو رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ریاض اپنی قیادت برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی تیل کی سیاست ایک نئے، زیادہ منتشر اور غیر متوازن دور میں داخل ہو جاتی ہے

    Related Posts

    انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی لائیو ڈیش بورڈ کی بدولت ستھرا پنجاب میں بدعنوانی بے نقاب ہوئی:عظمیٰ بخاری

    دو روز قبل نہاتے ہوئے ڈوبنے والے 22سالہ نوجوان محبوب علی ولد محمد خان انڑ کی لاش تاحال نہ مل سکی

    مقبول خبریں

    انڈیا میں رضا پہلوی کی حامی ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کو ملک کیوں چھوڑنا پڑا؟

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی لائیو ڈیش بورڈ کی بدولت ستھرا پنجاب میں بدعنوانی بے نقاب ہوئی:عظمیٰ بخاری

    ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میٹنگ ریلوے اسٹیشن کے قریب کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے 4 مزدور جاں بحق جبکہ 5 زخمی

    اب منشیات فروش پنکی کو تمغہ ملنے کا انتظار ہے ، فیصل واوڈا

    ’فتح 4‘ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ،قوم کو مبارکباد، انجنئیرز ،سائنسدانوں کو خراج تحسین

    بلاگ

    مکالمے کا فقدان

    خواتین کی شکایات پر فوری ایکشن، ڈی آئی جی آپریشنز کے بڑے فیصلے، پولیس افسران کیلئے سخت احکامات جاری

    سندھ، مہاجر اور مشترکہ تاریخ: محبت، قربانی اور سیاست کے درمیان ایک سفربرصغیر کی تقسیم

    انمول عرف پنکی کو درپردہ کس کی حمایت حاصل؟ کیس منطقی انجام تک پہنچے گا یا ایک اور فائل بند ہوگی!

    چھٹیوں کے سائے میں دم توڑتی تعلیم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.