تہران :ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس یونٹ کا کہنا ہے کہ امریکا کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں حالیہ پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں۔ یونٹ کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔ تاہم اس ڈیڈلائن کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین، روس اور یورپ کی جانب سے واشنگٹن کے خلاف لہجے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘
دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکا نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔
ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔
تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکا کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس میں بنیادی زور ’جنگ کے خاتمے‘ کے نکتے پر دیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا تک پہنچائی جانے والی تجاویز کے حوالے سے چند تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکا نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔
ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔
تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکا کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘
ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے ذریعہ جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکام کے بیانات اور اقدامات زیادہ تر میڈیا پر اثرانداز ہونے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کا پہلا مقصد تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور دوسرا اپنی پیدا کردہ صورتحال سے نکلنے کی کوشش کرنا ہے۔ اسدی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی نئی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

