تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

تحقیقات کے مطابق، ایران کی معروف کرپٹو ایکسچینج “نوبیٹکس” ایک ایسے بااثر سیاسی و مذہبی خاندان کے افراد نے قائم کی، جن کے ریاستی قیادت سے گہرے روابط ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف لاکھوں ایرانی شہریوں کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی دی بلکہ یہ ایک متوازی مالیاتی نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا، جہاں ریاستی ادارے بھی سرگرم ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس ایکسچینج کے ذریعے اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشنز ہو چکی ہیں، جن میں سے بڑی مقدار ایسے اداروں سے جڑی ہے جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہیں ۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا کرپٹو واقعی “غیرمرکزی” ہے، یا یہ طاقتور ریاستوں کے لیے ایک نیا ہتھیار بن چکا ہے؟ ایران کے کیس میں، یہ واضح ہوتا ہے کہ کرپٹو کو نہ صرف عام شہری مہنگائی اور کرنسی کی گرتی قدر سے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں بلکہ ریاستی سطح پر بھی اسے ایک اسٹریٹجک ٹول کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ امریکی اور عالمی ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کرپٹو کے ذریعے پابندیوں سے بچنے، فنڈز کی منتقلی اور حتیٰ کہ اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے ۔
مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ایکسچینج کے بانیوں نے اپنی اصل شناخت کو چھپانے کے لیے متبادل نام استعمال کیے، جبکہ پلیٹ فارم خود ایسی تکنیکی حکمتِ عملی اختیار کرتا رہا جس سے مالیاتی ٹریکنگ کو مشکل بنایا جا سکے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ جدید مالیاتی جنگ میں “شفافیت” کے بجائے “اوپیسٹی” یعنی پوشیدگی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اس پوری صورتحال میں کئی اہم اسباق موجود ہیں۔ اول، یہ کہ ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال صرف معاشی سہولت نہیں بلکہ ایک جیوپولیٹیکل ٹول بھی بن چکا ہے۔ دوم، پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی مالیاتی دباؤ اور عالمی اداروں کی نگرانی میں ہیں، اگر بغیر مناسب ریگولیشن کے کرپٹو کی طرف بڑھتے ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر عالمی مالیاتی تنازعات کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی ڈیجیٹل فنانس پالیسی کو محض ٹیکنالوجی کے تناظر میں نہیں بلکہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے فریم ورک میں دیکھنا ہوگا۔
میری رائے میں، ایران کا یہ ماڈل ایک “ڈیجیٹل مزاحمتی معیشت” (Digital Resistance Economy) کی مثال ہے، جہاں ٹیکنالوجی کو پابندیوں کے خلاف بطور دفاعی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس ماڈل کے خطرات بھی کم نہیں—خاص طور پر شفافیت، عالمی اعتماد اور مالیاتی نظام کے استحکام کے حوالے سے۔ اگر یہی رجحان عالمی سطح پر پھیلتا ہے تو مستقبل میں بین الاقوامی مالیاتی نظام مزید تقسیم اور غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرپٹو کرنسی اب صرف ایک مالیاتی ایجاد نہیں رہی بلکہ یہ طاقت، سیاست اور عالمی حکمتِ عملی کا ایک نیا میدان بن چکی ہے—اور ایران اس کھیل کو نہایت مہارت سے کھیل رہا ہے

