نیویارک (خصوصی رپورٹ): عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں ایک ماہ کی کم ترین سطح سے واپسی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں ہونے والی کمی ہے۔ تاہم، خام تیل کی اونچی قیمتوں نے مہنگائی اور طویل عرصے تک بلند شرح سود کے خدشات کو بدستور برقرار رکھا ہے۔
اسپاٹ گولڈ: اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے بعد 4,566.73 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سیشن میں 31 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر گر گئی تھی۔
گولڈ فیوچرز: جون ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 4,578.50 ڈالر پر پہنچ گئے۔
امریکی ڈالر کی قدر گرنے سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جس سے اس کی طلب میں تیزی آئی۔ دوسری جانب، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث برینٹ خام تیل 119 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی متاثر ہونے کا ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ ناکہ بندی پر بات چیت کی ہے اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جلد کسی معاہدے تک پہنچے۔
امریکی مرکزی بینک ‘فیڈرل ریزرو’ نے شرح سود کو برقرار رکھا ہے، لیکن مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی ہے، جس پر پالیسی سازوں کے درمیان اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق:
2026 کی پہلی سہ ماہی میں سونے کی عالمی طلب 2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,230.9 میٹرک ٹن تک جا پہنچی۔مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
سونے کے سکوں اور بارز کی خریداری نے زیورات کی طلب میں ہونے والی 23 فیصد کمی کے اثرات کو ختم کر دیا۔
سونے کے ساتھ ساتھ دیگر دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا:
چاندی: 1 فیصد اضافے کے ساتھ 72.18 ڈالر فی اونس۔
پلاٹینم: 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 1,911 ڈالر فی اونس۔
پیلیڈیم: 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,470.40 ڈالر فی اونس۔

