واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہ کہ ایران کے جوہری معاہدے پر راضی ہونے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔طویل ناکہ بندی کے حطرے کے پیش نظر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزیدہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے۔ ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری طرف آبنائے ہرمز کے ممکنہ طویل عرصے تک بند رہنے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور سرمایہ کار صورت حال پر تشویش کا شکار ہیں۔
سی این این کے مطابق برینٹ کروڈ، جو عالمی سطح پر تیل کا اہم معیار سمجھا جاتا ہے، 5 فیصد اضافے کے بعد 116.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے جب کہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 4.9 فیصد اضافے کے ساتھ 104.8 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.86 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 112.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت میں 5.14 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد نئی قیمت 101.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی تھی۔
اس سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 110.03 ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کر گئی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی یا آئندہ عسکری منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے مؤقف دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا سے منسوب سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خلاف جلد ”عملی اور غیر معمولی ردعمل“ سامنے آ سکتا ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے تاہم اگر ناکہ بندی جاری رہی تو سخت جواب دیا جائے گا۔

