لندن+ریاض :امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جبکہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور جزوی طور پر بند ہونے سے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی تجاویز سے مطمئن نہیں، جن میں جنگ بندی سے قبل جوہری پروگرام پر بات نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے اپنی پیشکش میں خلیجی جہاز رانی کے تنازعات کے حل کو بھی ترجیح دی ہے۔
صورتحال کے جمود کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت محدود کر دی ہے، جو عالمی تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا ذریعہ ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 45 سینٹ اضافے کے ساتھ 108.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 58 سینٹ بڑھ کر 96.96 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مسلسل ساتویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ جنگ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

