اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پاکستان میں مون سون کے آغاز سے قبل ہی قدرت کا غیظ و غضب نازل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے (NDMA) نے خبردار کیا ہے کہ اپریل کے اختتام سے جولائی کے آخری ایام تک ملک کے بیشتر حصے شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے، جو انسانی زندگی اور آبی حیات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ہیٹ برسٹ‘: جب راتیں بھی آگ اگلنے لگیں گی
این ڈی ایم اے کے تکنیکی ماہر ڈاکٹر طیب نے ایک تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سال ’ہیٹ برسٹ‘ (Heat Burst) جیسے غیر معمولی واقعات کے بننے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ جنوبی پنجاب کا شہر ملتان اس وقت اس غیر معمولی کیفیت کے مرکز میں ہے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت اچانک غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
جس طرح بادلوں کے پھٹنے (Cloud Burst) سے اچانک سیلاب آتا ہے، بالکل اسی طرح ’ہیٹ برسٹ‘ میں گرم اور خشک ہوائیں زمین کی طرف تیزی سے لپکتی ہیں، جس سے چند ہی لمحوں میں موسم ناقابلِ برداشت حد تک گرم ہو جاتا ہے
ٹھنڈے علاقے بھی تپنے کو تیار
رپورٹ کے مطابق اس سال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں بھی گرمی اپنے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹھوہار ریجن میں ہیٹ ویو کی شدت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی، جس سے شہریوں کو سخت طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکت
سپر ال نینو کا قہر
پاکستان میں اس شدید گرمی کی بڑی وجہ ’سپر ال نینو‘ (Super El Niño) کے اثرات بتائے جا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے وسیع علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔سمندری درجہ حرارت: ال نینو کی وجہ سے صرف زمین ہی نہیں بلکہ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے، جس سے مجموعی موسمیاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہ
ماہرین کی وارننگ اور حفاظتی تدابیر
ڈاکٹر طیب کے مطابق نہ صرف رواں برس بلکہ اگلا سال بھی معمول سے زیادہ گرم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں ماہرین نے درج ذیل احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے:
پانی کا بے دریغ استعمال: خشک سالی سے بچنے کے لیے آبی ذخائر کی حفاظت۔
بچاؤ کے اقدامات: ہیٹ ویو کے دوران بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال۔
آبی حیات کا تحفظ: گرمی کی شدت سے دریاؤں اور تالابوں میں موجود مچھلیوں اور دیگر جانداروں کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات۔
پاکستان ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو ’ہیٹ برسٹ‘ اور خشک سالی معیشت اور انسانی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

