اسلام آباد:ایک دور تھا جب عالمی میڈیا پر پاکستان کا ذکر آتے ہی ذہن میں صرف چند الفاظ کوندتے تھے: بم دھماکہ، خودکش حملہ، اسامہ بن لادن اور دہشت گردی کا برآمد کنندہ۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کے نام کو اس قدر داغدار کیا گیا کہ اسے ایک "ناکام ریاست” کا لیبل دے دیا گیا۔ دنیا ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور پاکستان کا پاسپورٹ ایک بوجھ بن چکا تھا۔
لیکن آج منظرنامہ 180 ڈگری بدل چکا ہے۔ آج پاکستان کا نام بم دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ بڑے عالمی فیصلوں کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ آج ہم دہشت گردی نہیں، قیادت کے علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔
یورپی کونسل کی صدر ہماری کوششوں کی معترف ہیں۔
سابق اطالوی وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ’نوبیل امن انعام‘ کی تجویز پیش کر دی ہے۔
رائٹرز جیسے معتبر ادارے نے اس پیش رفت کا موازنہ نکسن کے تاریخی دورہِ چین سے کیا ہے۔
دنیا کی کوئی ایسی بڑی زبان نہیں—چاہے وہ عربی ہو، فارسی ہو، چینی ہو، فرانسیسی ہو یا جرمن—جہاں آج پاکستان کی ستائش نہ ہو رہی ہو۔ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ اور فاکس نیوز کی اسکرینوں پر اب "Pakistan” کے آگے "Bomb” نہیں، بلکہ چمکتا ہوا لفظ "PEACE” لکھا نظر آتا ہے۔
آج پاکستان کو بم سے زیادہ دوستوں کی ضرورت تھی اور ہم نے ثابت کیا کہ:
ہم بحران کے عین وسط میں کھڑے ہو کر دونوں فریقوں کو میز پر لا سکتے ہیں۔
ہم وہ ہیں جس پر دوست اور دشمن، دونوں آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتے ہیں۔
ہم معاشی تنگی کے باوجود دنیا کو بڑی جنگ سے بچا سکتے ہیں۔
آج دنیا نے وہ پاکستان دیکھا ہے جو وہ واقعی ہے—ایک پل، ایک مصلح، اور ایک عالمی رہنما!
پاکستان اب ناکام ریاست نہیں ،امن کا پیامبر، ایک پل ،ایک عالمی رہنما ہے، منظر نامہ تبدیل کیسے ہوا؟

