اسلام آباد:سفارتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ بھارتی میڈیا شاید اس بات پر پریشان ہے کہ اگر ’جھپی‘ اور ’سیلفی‘ نکال دی جائے تو پیچھے سفارت کاری میں بچتا کیا ہے؟ مگر اسلام آباد نے جواب دے دیا ہے: ”صرف وقار!“
بھارتی صحافی اشوک سوین کی ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہےاسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات نے جہاں دنیا کو حیران کر رکھا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے: ”سفارت کاری کے آداب کیا ہوتے ہیں؟“ پاکستانی قیادت، جو کہ عموماً تنقید کی زد میں رہتی ہے، اس بار اپنے ”ڈگنی فائڈ“ (Dignified) اور سنجیدہ رویے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکا میں مقیم بھارتی صحافی اشوک سوین نے ٹویٹ کیا کہاسلام آباد کے ریڈ کارپیٹ پر نہ تو کوئی ”بھالو جھپی“ (Bear Hug) دیکھنے کو ملی، نہ ہی کیمروں کے سامنے بلاوجہ کی ”کِھی کِھی“ اور قہقہے بکھیرے گئے۔ ان کا اشارہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی وہ معروف ’جھپی ڈپلومیسی‘، جس میں وہ اکثر غیر ملکی سربراہان کو دبوچ لیتے ہیں، اس کے برعکس فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس بار ”اولڈ اسکول“ (Old School) سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔
غیر ملکی وفود کے استقبال کے دوران نہ تو کسی نے چھلانگیں لگائیں اور نہ ہی غیر ضروری تپاک دکھایا۔ ناقدین بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ جب آپ عالمی بحرانوں کو حل کرنے کی میزبانی کر رہے ہوں، تو آپ کے چہرے پر سنجیدگی اور لہجے میں ٹھہراؤ ہونا ضروری ہے، نہ کہ آپ کسی بالی وڈ فلم کے ہیرو کی طرح ”انٹری“ دیں۔
I am not a fan of Munir or Sharif. But, the way they are playing the role as hosts of Islamabad talks, meeting & greeting the foreign leaders with grace & dignified manner, it will make any Pakistani happy. No jumping, no hugging, no Khi Khi like their Indian counterpart, Modi.
— Ashok Swain (@ashoswai) April 11, 2026
سوشل میڈیا کا ردِ عمل
انٹرنیٹ صارفین اس تبدیلی کو ”برانڈ پاکستان“ کی نئی تصویر قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: ”شکر ہے ہم نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں، سرکس نہیں۔“ اب چاہے آپ مودی کے فین ہوں یا نہ ہوں، اسلام آباد کی اس ”گریس فل“ (Graceful) میزبانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سفارت کاری صرف گلے ملنے کا نام نہیں بلکہ وقار کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھ کر بات منوانے کا نام ہے۔

